حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 623
۶۲۳ (۳) ان سب پر اعلیٰ طاقتیں جو جبرائیل و میکائیل و عزرائیل وغیرہ نام رکھتی ہیں جن کو دید میں جم لکھا ہے اور فرشتہ کالفظ قرآن شریف میں عام ہے۔ ہر ایک چیز جو اس کی آواز سنتی ہے وہ اس کا فرشتہ ہے ۔ پس دنیا کا ذرہ ذرہ خدا کا فرشتہ ہے کیونکہ وہ اُس کی آواز سنتے ہیں اور اُس کی فرمانبرداری کرتے ہیں ۔ (نسیم دعوت ۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۶ ۴۵ ، ۴۵۷ ) محققین اہل اسلام ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائک اپنے شخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اترتے ہیں۔ اور یہ خیال ببداہت باطل بھی ہے کیونکہ اگر یہی ضرور ہوتا کہ ملائک اپنی اپنی خدمات کی بجا آوری کے لئے اپنے اصل وجود کے ساتھ زمین پر اترا کرتے تو پھر ان سے کوئی کام انجام پذیر ہونا بغایت درجہ محال تھا مثلاً فرشتہ ملک الموت جو ایک سکنڈ میں ہزار ہا ایسے لوگوں کی جانیں نکالتا ہے جو مختلف بلاد و امصار میں ایک دوسرے سے ہزاروں کوسوں کے فاصلہ پر رہتے ہیں اگر ہر ایک کے لئے اس بات کا محتاج ہو کر کہ اول پیروں سے چل کر اس ملک اور شہر اور گھر میں جاوے اور پھر اتنی مشقت کے بعد جان نکالنے کا اس کو موقع ملے تو ایک سکنڈ کیا اتنی بڑی کارگزاری کے لئے تو کئی مہینے کی مہلت بھی کافی نہیں ہو سکتی ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص انسانوں کی طرح حرکت کر کے ایک طرفہ العین کے یا اس سے کم عرصہ میں تمام جہان گھوم کر چلا آوے ہرگز نہیں۔ بلکہ فرشتے اپنے اصلی مقامات سے جو اُن کے لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں ایک ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے جیسا کہ خدائے تعالیٰ ان کی طرف سے قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامُ مَّعْلُوْمُ ۔ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُونَ - سورة صافات جز و ۲۳ پس اصل بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اُس کی گرمی و روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہر یک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرح روحانیات سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کی اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے ان کو نامزد کریں یا نہایت سیدھے اور موحدانہ طریق سے ملائک اللہ کا ان کو لقب دیں، در حقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے اور بحکمت کا ملہ خداوند تعالی زمین کی ہر یک مستعد چیز کو اس کے کمال مطلوب تک پہنچانے کے لئے یہ روحانیات خدمت میں لگی ہوئی ہیں ظاہری خدمات بھی بجا لاتے ہیں اور باطنی بھی۔ جیسے الصافات : ۱۶۶،۱۶۵