حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 621
۶۲۱ ستاروں کو ایک ہی جگہ جمع کر دیا ہے یعنی اس آیت میں کواکب سبعہ کو ظاہری طور پر مدبّر ما فی الارض ٹھہرایا ہے اور ملائک کو باطنی طور پر ان چیزوں کا مد بر قرار دیا ہے۔ چنانچہ تفسیر فتح البیان میں معاذ بن جبل اور قشیری سے یہ دونوں روائتیں موجود ہیں۔ اور ابن کثیر نے حسن سے یہ روایت ملائک کی نسبت کی ہے كم تدبر الامر من السماء الى الارض یعنی آسمان سے زمین تک جس قدر امور کی تدبیر ہوتی ہے وہ سب ملائک کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔ اور ابن کثیر لکھتا ہے کہ یہ متفق علیہ قول ہے کہ مدتمرات امر ملائک ہیں۔ اور ابن جریر نے بھی آیات فَالْمُدَبِّرَاتِ اَمْرًا کے نیچے یہ شرح کی ہے کہ اس سے مراد ملائک ہیں۔ جو مدبر عالم ہیں۔ یعنی کو بظاہر نجوم اور شمس و قمر و عناصر وغیرہ اپنے اپنے کام میں مشغول ہیں مگر در حقیقت مدبر ملائک ہی ہیں ۔ ( آئینہ کمالات اسلام ۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۳۳ تا ۱۳۷ حاشیه ) جہاں تک ہم نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں اور جس قدر ہم اپنے فکر اور ذہن اور سوچ سے کام لیتے ہیں صریح اور صاف اور بدیہی طور پر ہمیں نظر آتا ہے کہ ہر یک فیضان کے لئے ہم میں اور ہمارے خداوند کریم میں علل متوسطہ ہیں جن کی توسط سے ہر ایک قوت اپنی حاجت کے موافق فیضان پاتی ہے۔ پس اسی دلیل سے ملائک اور جنات کا وجود بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ ہم نے صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ خیر اور شر کے اکتساب میں صرف ہمارے ہی قومی کافی نہیں بلکہ خارجی محمدات اور معاونات کی ضرورت ہے جو خارق عادت اثر رکھتے ہیں ۔ مگر وہ محمد اور معاون خدا تعالیٰ براہ راست اور بلا توسط نہیں بلکہ بتوسط بعض اسباب ہے۔ سو قانون قدرت کے ملاحظہ نے قطعی اور یقینی طور پر ہم پر کھول دیا کہ وہ ممدات اور معاونات خارج میں موجود ہیں ۔ گو ان کی گنہ اور کیفیت ہم کو معلوم ہو یا نہ ہو مگر یہ یقینی طور پر معلوم ہے کہ وہ نہ براہِ راست خدا تعالیٰ ہے اور نہ ہماری ہی قوتیں اور ہمارے ہی ملکے ہیں۔ بلکہ وہ ان دونوں قسموں سے الگ ایسی مخلوق چیزیں ہیں جو ایک مستقل وجود اپنا رکھتی ہیں۔ اور جب ہم ان میں سے کسی کا نام داعی الی الخیر رکھیں گے تو اُسی کو ہم روح القدس یا جبرائیل کہیں گے اور جب ہم اُن میں سے کسی کا نام داعی الی الشر رکھیں گے تو اُسی کو ہم شیطان اور ابلیس کے نام سے بھی موسوم کریں گے۔ یہ تو ضرور نہیں کہ ہم روح القدس یا شیطان ہر یک تاریک دل کو دکھلاویں اگر چہ عارف ان کو دیکھ بھی لیتے ہیں اور کشفی مشاہدات سے وہ دونوں نظر بھی آ جاتی ہیں۔ (آئینہ کمالات اسلام - روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۸۶ تا ۸۸)