حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 618 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 618

۶۱۸ شعاعوں سے سردی پیدا کرتا ہے اور اجسام اور اجسام کے مواد اور اجسام کی شکلوں اور حواس پر اپنی حکومت رکھتا ہے۔ زمین کہہ رہی ہے کہ میں وہ ہوں کہ جس پر ہزار ہا ملک آباد ہیں اور جو طرح طرح کی نباتات پیدا کرتی اور اور طرح طرح کے کے جواہر اپنے اندر طیار کرتی اور آسمانی تاثیرات کو کوعورت عورت کی کی طرح قبول کرتی ہے۔ آگ بزبانِ حال کہہ رہی ہے کہ میں ایک جلانے والی چیز ہوں اور بالخاصیت قوتِ احراق میرے اندر ہے اور اندھیرے میں قائم مقام آفتاب ہوں ۔ اسی طرح زمین کی ہر ایک چیز بزبان حال اپنی شنا کر رہی ہے۔ ۔ غرض یہ تمام چیزیں بزبان حال اپنی اپنی تعریف کر رہی ہیں اور محجوب بانفسہا ہیں ۔ یعنی اپنے خواص کے پردے میں محبوب ہیں۔ اس لئے مبدء فیض سے دور پڑ گئی ہیں اور بغیر ایسی چیزوں کی توسط کے جو ان حجابوں سے منزہ ہوں مبدء فیض کا کوئی ارادہ اُن سے تعلق نہیں پکڑ سکتا کیونکہ حجاب اس فیض سے مانع ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ کی حکمت نے تقاضا ک ناضا کیا کہ اُس کی ارادات کا مظہر اول بننے کے لئے ایک ایسی مخلوق ہو جو محجوب بنفسہ نہ ہو بلکہ اس کی ایک ایسی نرالی خلقت ہو جو بر خلاف اور چیزوں کے اپنی فطرت سے ہی ایسی واقع ہو کہ نفس حاجب سے خالی اور خدا تعالیٰ کے لئے اس کی جوارح کی طرح ہو اور خدا تعالیٰ کے جمیع ارادات کے موافق جو مخلوق اور مخلوق کے کل عوارض سے تعلق رکھتے ہیں اس کی تعداد ہو اور وہ نرالی پیدائش کی چیزیں مرایا صافیہ کی طرح اپنی فطرت رکھ کر ہر وقت خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں اور اپنے وجود میں ذُو جِهَتَین ہوں ۔ ایک جہت تجرد اور تنزہ کی جو اپنے وجود میں وہ نہایت الطف اور منزہ عن الحجب ہوں جس کی وجہ سے وہ دوسری مخلوق سے نرالی اور خدا تعالیٰ کے وجود سے ظلمی طور پر مشابہت تامہ رکھتے ہوں اور محجوب بانفسہا نہ ہوں ۔ دوسری جہت مخلوقیت کی جس کی وجہ سے وہ دوسری مخلوقات ۔ ات سے مناسبت را بت رکھیں اور اپنی تاثیرات کے ساتھ اُن سے نزدیک ہوسکیں۔ سو خدا تعالیٰ کے اس ارادہ سے اس عجیب مخلوق کا وجود ہو گیا جس کو ملائک کہتے ہیں۔ یہ ملائک ایسے فنافی طاعت اللہ ہیں کہ اپنا ارادہ اور فیشن اور توجہ اور اپنے ذاتی قومی یعنی یہ کہ اپنے نفس سے کسی پر مہربان ہونا یا اس سے ناراض ہو جانا اور اپنے نفس سے ایک بات کو چاہنا یا اس سے کراہت کرنا کچھ بھی نہیں رکھتے بلکہ بکلی جوارح الحق کی طرح ہیں۔ خدا تعالیٰ کے تمام ارادے اوّل انہی کے مرایا صافیہ میں منعکس ہوتے ہیں اور پھر اُن کی توسط سے کل مخلوقات میں پھیلتے ہیں۔ چونکہ خدا تعالیٰ بوجہ اپنے تقدس تام کے نہایت تجرد اور تنزہ میں ہے۔ اس لئے وہ چیزیں جو انانیت اور ہستی محجوبہ کی کثافت سے خالی نہیں اور محجوب بانفسہا ہیں اس