حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 616
٦١٦ اگر ایسا ہوتا تو پھر اسلام ایسا بگڑتا کہ کسی محدث وغیرہ کے ہاتھ سے ہرگز درست نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر چہ ائمہ حدیث نے دینی تعلیم کی نسبت ہزار ہا حدیثیں لکھیں مگر سوال تو یہ ہے کہ وہ کونسی حدیث ہے کہ جو دینی ہا تو یہ اُن کے لکھنے سے پہلے اُس پر عمل نہ تھا اور دنیا اس مضمون سے غافل تھی ۔ اگر کوئی ایسی تعلیم یا ایسا واقعہ یا ایسا عقیدہ ہے جو اس کی بنیادی اینٹ صرف ائمہ حدیث نے ہی کسی روایت کی بنا پر رکھی ہے اور تعامل کے سلسلہ میں جس کے کروڑ ہا افراد انسانی قائل ہوں اس کا کوئی اثر و نشان دکھائی نہیں دیتا اور نہ قرآن کریم میں اس کا کچھ ذکر پایا جاتا ہے تو بلا شبہ ایسی خبر واحد کا جس کا پتہ بھی سو ڈیڑھ سو برس کے بعد لگا یقین کے درجہ سے بہت ہی نیچے گری ہوئی ہوگی اور جو کچھ اس کی نا قابلِ تسلّی ہونے کی نسبت کہو وہ بجا ہے لیکن ایسی حدیثیں در حقیقت دین اور سوانح اسلام سے کچھ بڑا تعلق نہیں رکھتیں بلکہ اگر سوچ کر دیکھو تو ائمہ حدیث نے ایسی حدیثوں کا بہت ہی کم ذکر کیا ہے جن کا تعامل کے سلسلہ میں نام ونشان تک نہیں پایا جاتا ۔ پس جیسا کہ بعض جاہل خیال کرتے ہیں یہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے کہ دنیا نے دین کے صد ہا ضروری مسائل یہاں تک کہ صوم و صلوٰۃ بھی صرف امام بخاری اور مسلم وغیرہ کی احادیث سے سیکھے ہیں ۔ کیا سو ڈیڑھ سو برس تک لوگ بے دین ہی چلے آتے تھے؟ کیا وہ لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے؟ زکوۃ نہیں دیتے تھے؟ حج نہیں کرتے تھے؟ اور ان تمام اسلامی عقائد کے امور سے جو حد بیثوں میں لکھے ہیں بے خبر تھے؟ حَاشَا وَ كَلَّا ہرگز نہیں۔ ( شہادت القرآن ۔ روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۹۸ تا ۳۰۳)