حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 52
۵۲ بتلایا ہے کہ تو ہندؤوں کے لئے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہے۔ لیکچر سیالکوٹ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۸) قَدْ أَنْبَأَنِي رَبِّي انَّنِي كَسَفِينَةِ نُوحٍ لِلْخَلْقِ فَمَنْ أَتَانِي وَ دَخَلَ فِي الْبَيْعَةِ فَقَدْ نَجَا مِنَ الضَّيْعَةِ۔ (آئینہ کمالات اسلام ۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۸۶) وَ إِنِّي أَنَا الْخِضَرُ فِي بَعْضِ صِفَاتِي لَا تُحَاطُ أَسْرَارِي۔ کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نمبر امشتمل بر الهامات ۱۲ جنوری ۱۹۰۳ تا ۱۹ را پریل ۱۹۰۶ صفحه ۶۶ قلمی ) خدائے حکیم علیم نے وضع دنیا دوری رکھی ہے یعنی بعض نفوس بعض کے مشابہ ہوتے ہیں نیک نیکوں کے مشابہ اور بد بدوں کے مشابہ مگر با ایں ہمہ یہ امر مخفی ہوتا ہے اور زور شور سے ظاہر نہیں ہوتا لیکن آخری زمانہ کے لئے خدا نے مقرر کیا ہوا تھا کہ وہ ایک عام رجعت کا زمانہ ہوگا تا یہ امت مرحومہ دوسری امتوں سے کسی بات میں کم نہ ہو۔ پس اُس نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گذشتہ نبی سے مجھے اُس نے تشبیہ دی کہ وہی میرا نام رکھ دیا۔ چنانچہ آدم ، ابراہیم ، نوح ، موسیٰ ، داؤد ، سلیمان ، یوسف ، یحیی ، عیسی وغیرہ یہ تمام نام براہین احمدیہ میں میرے رکھے گئے اور اس صورت میں گویا تمام انبیاء گذشتہ اس امت میں دوبارہ پیدا ہو گئے۔ یہاں تک کہ سب کے آخر مسیح پیدا ہو گیا اور جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔ چنانچہ قرآن شریف میں اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور فرماتا ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔ ( نزول المسیح ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۸۲ حاشیه ) میرا انکار میرا انکار نہیں ہے بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہے کیونکہ جو میری تکذیب کرتا ہے وہ میری تکذیب سے پہلے معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کو جھوٹا ٹھہرا لیتا ہے۔ میں دعوی سے کہتا ہوں کہ الْحَمْدُ سے لے کر وَالنَّاسِ تک سارا قرآن چھوڑنا پڑے گا۔ پھر سوچو! کہ کیا میری لے مجھے میرے رب نے اس بات سے آگاہ فرمایا ہے کہ میں مخلوق کے لئے کشتی نوح کی طرح ہوں پس جو میرے پاس آیا اور میری بیعت میں داخل ہوا تو وہ ہلاکت سے نجات پا گیا۔ ہے اور یقیناً میں اپنی بعض ں صفات میں خضر ہوں میرے اسرار کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کاپی خلافت لائبریری ربوہ میں موجود ہے۔