حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 607
٦٠٧ چشمے کہ ندید آں صحفِ پاک چه دیدہ لے از وحی خدا صبح صداقت بدمیده کارخ دل ما شد زہماں نافه معطر و آن یار بیامد که زما بود رمیده ۲ آن دیده که نورے نگرفت ست ز فرقاں حقا کہ ہمہ عمر ز کوری نہ رہیدہ سے آن دل که جز جز از از دی وی دے گل گلزار خدا جست با خور ندهم نسبت آں نور کہ بینم سو گند تواں خورد که بویش نشمیده ۴ صد خور که به پیراهن و حلقه کشیده ۵ بے دولت بد بخت کسا نیکہ ازاں نور سرتافته از نخوت و پیوند بریده 1 (براہین احمد یہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۳۳۵ حاشیہ نمبر ۱۱) لے خدا کی وحی سے صبح صداقت روشن ہوگئی جس آنکھ نے یہ صحفِ پاک نہیں دیکھے اس نے کچھ بھی نہیں دیکھا۔ ہمارا دل اس نافہ سے معطر ہے اور وہ یار جو ہم سے بھاگا ہوا تھا پھر آگیا۔ سے وہ آنکھ جس نے قرآن سے نورا اخذ نہیں کیا خدا کی قسم وہ ساری عمر اندھے پن سے خلاصی نہ پائے گی۔ ہے وہ دل جس نے اسے چھوڑ کر گل گلزار خدا ڈھونڈا۔ خدا کی قسم کہ اس شخص نے اس کی خوشبو بھی نہیں سونگھی ۔ میں سورج سے اس نور کو تشبیہ نہیں دے سکتا کیونکہ دیکھتا ہوں کہ اس کے گرد سینکڑوں آفتاب حلقہ باندھے کھڑے ہیں۔ وہ لوگ بد قسمت اور بد نصیب ہیں جنہوں نے اس نور سے تکبر کی وجہ سے روگردانی کی اور تعلق توڑ لیا۔