حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 605
۶۰۵ جمال و حسن قرآں نور جان ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے نظیر اُس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلام پاک رحماں ہے بہار جاوداں پیدا ہے اُس کی ہر عبارت میں نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اُس سا کوئی بستاں ہے کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز اگر لولوئے عماں ہے وگر لعلِ بدخشاں ہے خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو وہاں قدرت یہاں درماندگی فرقِ نمایاں ہے ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لا علمی سخن میں اس کے ہمتائی کہاں مقدور انساں ہے تو پھر بہ ہے بنا سکتا نہیں اک پانو کیڑے کا بشر ہرگز پھر کیونکر بنانا نور حق کا اُس پہ آساں ارے لوگو کرو کچھ پاس شانِ کبریائی کا زباں کو تھام لو اب بھی اگر کچھ بُوئے ایماں ہے خدا سے غیر کو ہمتا بنانا سخت کفراں ہے خدا سے کچھ ڈرو یا رویہ کیسا کذب و بہتاں ہے اگر اقرار ہے تم کو خدا کی ذاتِ واحد کا تو پھر کیوں اس قدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے ہمیں کچھ کہیں نہیں بھائیو! نصیحت ہے ہے غریبانہ کوئی جو پاک دل ہو دے دل و جاں اُس پر قرباں ہے نورِ فرقاں ہے جو سب نوروں سے اجلی نکلا حق کی توحید کا مُرجھا ہی چلا تھا پودا ( براہین احمد یہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۹۸ تا ۲۰۴) پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا ناگہاں غیب سے یہ چشمه اصفی نکلا یا الہی! تیرا فرقاں ہے کہ اِک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں مئے عرفاں کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا پہلے سمجھے تھے کہ موسی کا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور ایسا چمکا ہے کہ صد نیر بیضا نکلا زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اعلمی نکلا (براہین احمد یہ ہر چہار تحصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۳۰۶،۳۰۵ حاشیه در حاشیه نمبر۲)