حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 48
۴۸ ☑ ہوا کہ حدیث لَوْ كَانَ الإِيْمَانُ مَعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسِ اس عاجز کے حق میں ہے اور کیوں جائز نہیں کہ امت محمدیہ میں سے کسی اور کے حق میں ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ براہین احمد یہ میں بار بار اس حدیث کا مصداق وحی الہی نے مجھے ٹھیرایا ہے۔ اور بتصریح بیان فرمایا کہ وہ میرے حق میں ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا ۔ ومن ينكر به فليبارز للمباهلة ولعنة الله على من كذب الحق او افترى على حضرة العزة ۔ اور یہ دعوی اُمتِ محمدیہ میں سے آج تک کسی اور نے ہرگز نہیں کیا کہ خدا تعالیٰ نے میرا یہ نام رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی سے صرف میں اس نام کا مستحق ہوں اور یہ کہنا کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے کس قدر جہالت کس قدر حماقت اور کس قد ر حق سے خروج ہے۔ اے نادانو ! میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں ۔ صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے۔ سو مکالمہ و مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں ۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمه و مخاطبه ر اطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الہی نبوت رکھتا ۔ ھتا ہوں ۔ وَلِكُلِّ أَنْ يَصْطَلِحَ - ( تتمہ حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۰۳٬۵۰۲) و اني على مقام الختم من الولاية كما كان سيدى المصطفى على مقام الختم من النبوة و انه خاتم الانبياء و انا خاتم الاولياء۔ لاولى بعدى الا الذي هو منى و على عهدي۔ و انّي أُرْسِلْتُ من ربّى بِكُلِّ قُوّة وبركة و عزّة۔ وان قدمى هذه على منارة ختم عليها كل رفعة " ۔ (خطبہ الہامیہ۔ روحانی خزائن جلد ۶ اصفحه ۷۰۰۶۹ ) میں وہی ہوں جس کا خدا نے وعدہ کیا تھا۔ ہاں ! میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی ے اگر ایمان ثریا پر بھی معلق ہوا تو اسے ابناء فارس میں سے ایک شخص لا زمین پر قائم کرے گا۔ ہے اور جو میرے الہامات کا انکار کرتا ہے اسے چاہیے کہ وہ مباہلہ کے لئے آئے اور اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو حق کو جھٹلاتا ہے یا اللہ رب العزت کے بارہ میں افترا سے کام لیتا ہے۔ سے اور میں ولایت کے سلسلہ کو ختم کرنے والا ہوں جیسا کہ ہمارے سید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے سلسلہ کو ختم کرنے والے تھے اور وہ خاتم الانبیاء ہیں اور میں خاتم الاولیاء ہوں ۔ میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہوگا اور میرے عہد پر ہوگا۔ اور میں اپنے خدا کی طرف سے تمام تر قوت اور برکت اور عزت کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور یہ میرا قدم ایک ایسے منارہ پر ہے جو اس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے۔