حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 568 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 568

۵۶۸ لے کر اپنے طور سے کسی دوسری فصیح عبارت میں لکھیں کہ جو سورۃ فاتحہ کی عبارت سے مساوی یا اس سے بہتر ہو تو یہ بات بالکل محال اور ممتنع ہے کہ ایسی عبارت لکھ سکیں ۔ کیونکہ تیرہ سو برس سے قرآن شریف تمام دنیا کے سامنے اپنی بے نظیری کا دعوی پیش کر رہا ہے۔ مخالفین کی سینکڑوں برسوں کی خاموشی اور لا جواب رہنے نے اس کو وہ کامل مرتبہ ثبوت کا بخشا ہے کہ جو گلاب کے پھول وغیرہ کو وہ ثبوت بے نظیری کا حاصل نہیں ۔ کیونکہ دنیا کے حکیموں اور صنعت کاروں کو کسی دوسری چیز میں اس طور پر معارضہ کے لئے کبھی ترغیب نہیں دی گئی۔ اور نہ اس کی مثل بنانے سے عاجز رہنے کی حالت میں کبھی ان کو یہ خوف دلایا گیا کہ وہ طرح طرح کی تباہی اور ہلاکت میں ڈالے جائیں گے۔ گو اب ہم باطنی خوبیوں کو بھی دہرا کر ذکر کرتے ہیں تا اچھی طرح غور کرنے والوں کے ذہن میں آجائیں ۔ سو جاننا چاہئے کہ جیسا خداوند حکیم مطلق نے گلاب کے پھول میں بدن انسان کے لئے طرح طرح کے منافع رکھتے ہیں کہ وہ دل کو قوت دیتا ہے اور قومی اور ارواح کو تقویت بخشتا ہے اور کئی اور مرضوں کو مفید ہے ایسا ہی خدا وند کریم نے سورۃ فاتحہ میں تمام قرآن شریف کی طرح روحانی مرضوں کی شفا رکھی ہے اور باطنی بیماریوں کا اس میں وہ علاج موجود ہے کہ جو اُس کے غیر میں ہرگز نہیں پایا گیا۔ کیونکہ اس میں وہ کامل صدا صداقتیں بھری ہوئی ہیں کہ جو رو۔ ہیں کہ جو روئے زمین سے نابود ہوئی ھیں اور دنیا میں ان کا نام و نشان باقی نہیں رہا تھا اور حقیقت میں وہ بارانِ رحمت ہی تھا کہ سخت پیاسوں کی جان رکھنے کے لئے آسمان سے اترا اور دنیا کی روحانی حیات اسی بات پر موقوف تھی کہ وہ آب حیات نازل ہوا اور کوئی قطرہ اس کا ایسا نہ تھا کہ کسی موجود الوقت بیماری کی دوا نہ ہوا اور حالت موجودہ زمانہ نے صد ہا سال تک اپنی معمولی گمراہی پر رہ کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ ان بیماریوں کے علاج کو خود بخود بغیر اُتر نے اس نور کے حاصل نہیں کر سکتا اور نہ اپنی ظلمت کو آپ اٹھا سکتا ہے بلکہ ایک آسمانی نور کا محتاج ہے کہ جو اپنی سچائی کی شعاعوں سے دنیا کو روشن کرے اور اُن کو دکھاوے جنہوں نے کبھی نہیں دیکھا اور اُن کو سمجھا وے جنہوں نے کبھی نہیں سمجھا۔ اس آسمانی نور نے دنیا میں آ کر صرف یہی کام نہیں کیا کہ ایسے معارف حقہ ضرور یہ پیش کئے جن کا صفحہ زمین پر نشان باقی نہیں رہا تھا بلکہ اپنے روحانی خاصہ کے زور سے ان جواہر حق اور حکمت کو بہت سے سینوں میں بھر دیا اور بہت سے دلوں کو اپنے دلربا چہرہ کی طرف کھینچ لایا اور اپنی قوی تاثیر سے بہتوں کو علم اور عمل کے اعلیٰ مقام تک پہنچایا ۔ اب یہ دونوں قسم کی خوبیاں کہ جو سورۃ فاتحہ اور تمام قرآن شریف میں پائی جاتی ہیں کلام الہی کی بے نظیری ثابت کرنے کے لئے ایسے روشن دلائل ہیں