حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 538
۵۳۸ حکمت سے تعلق رکھتی ہے ایسی نہیں جو قرآن شریف میں پائی نہ جاتی ہو مگر ایسا شخص کون ہے کہ کوئی دوسری کتاب ایسی دکھلائے جس میں یہ صفت موجود ہو اور اگر کسی کو اس بات میں شک ہو کہ قرآن شریف جامع تمام حقائق دینیہ ہے تو ایسا مشکلک خواہ عیسائی ہو خواہ آریہ اور خواہ برہمو ہو خواہ دہر یہ اپنی طرز اور طور پر امتحان کر کے اپنی تسلی کرا سکتا ہے اور ہم تسلی کر دینے کے ذمہ دار ہیں ۔ بشرطیکہ کوئی طالب حق ہماری طرف رجوع کرے۔ بائبل میں جس قدر پاک صداقتیں ہیں یا حکماء کی کتابوں میں جس قدر حق اور حکمت کی باتیں ہیں جن پر ہماری نظر پڑی ہے یا ہندؤں کے وید وغیرہ میں جو اتفاقاً بعض سچائیاں درج ہو گئیں یا باقی رہ گئیں ہیں جن کو ہم نے دیکھا ہے یا صوفیوں کی صد ہا کتابوں میں جو حکمت و معرفت کے نکتے ہیں جن پر ہمیں اطلاع ہوئی ہے ان سب کو ہم قرآن شریف میں پاتے ہیں ۔ اور اس کامل استقراء سے جو تیس برس کے عرصہ سے نہایت عمیق اور محیط نظر کے ذریعہ سے ہم کو حاصل ہے نہایت قطع اور یقین سے ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ کوئی روحانی صداقت جو تکمیل نفس اور دماغی اور دلی قومی کی تربیت کے لئے اثر رکھتی ہے ایسی نہیں ہے جو قرآن شریف میں درج نہ ہو اور یہ صرف ہمارا ہی تجربہ نہیں بلکہ یہی قرآن شریف کا دعوی بھی ہے جس کی آزمائش نہ فقط میں نے بلکہ ہزار ہا علماء ابتداء سے کرتے آئے اور اس کی سچائی کی گواہی دیتے آئے ہیں۔ پھر چوتھا معجزہ قرآن شریف کا اس کی روحانی تاثیرات ہیں جو ہمیشہ اس میں محفوظ چلی آتی ہیں۔ یعنی یہ کہ اس کی پیروی کرنے والے قبولیت الہی کے مراتب کو پہنچتے ہیں اور مکالمات الہیہ سے مشرف کئے جاتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ اُن کی دعاؤں کو سنتا اور انہیں محبت اور رحمت کی راہ سے جواب دیتا ہے اور بعض اسرار غیبیہ پر نبیوں کی طرح ان کو مطلع فرماتا ہے اور اپنی تائید اور نصرت کے نشانوں سے دوسری مخلوقات سے انہیں ممتاز کرتا ہے۔ یہ بھی ایسا نشان ہے کہ جو قیامت تک امت محمد یہ میں قائم رہے گا اور ہمیشہ ظاہر ہوتا چلا آیا ہے اور اب بھی موجود اور متحقق الوجود ہے۔ مسلمانوں میں سے ایسے لوگ اب بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں کہ جن کو اللہ جل شانۀ اپنی تائیدات خاصہ سے مؤید فرما کر الہامات صحیحہ و صادقہ و مبشرات و مکاشفات غیبیہ سے سرفراز فرماتا ہے۔ اب اے حق کے طالبو! اور سچے نشانوں کے بھوکو اور پیاسو! انصاف سے دیکھو اور ذرا پاک نظر سے غور کرو کہ جن نشانوں کا خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے کس اعلیٰ درجہ کے نشان ہیں اور کیسے ہر زمانے کے لئے مشہور و محسوس کا حکم رکھتے ہیں۔ پہلے نبیوں کے معجزات کا اب نام و نشان باقی