حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 523 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 523

۵۲۳ لطائف و نکات اپنے انوار روحانی کا آپ دعویٰ کیا ہے اور اپنا بے نظ ،اور اپنا بے نظیر ہونا آپ ظاہر فرما دیا ۔ ہے ۔ یہ بات ہرگز نہیں کہ صرف مسلمانوں نے فقط اپنے خیال میں اُس کی خوبیوں کو قرار دے دیا ہے بلکہ وہ تو خود اپنی خوبیوں اور اپنے کمالات کو بیان فرماتا ہے اور اپنا بے مثل و مانند ہونا تمام مخلوقات کے مقابلہ پر پیش کر رہا ہے اور بلند آواز سے ھل من معارض کا نقارہ بجا رہا ہے اور دقائق حقائق اس کے صرف دو تین نہیں جس میں کوئی نادان شک بھی کرے بلکہ اس کے دقائق تو بحر ذخار کی طرح جوش مار رہے ہیں اور آسمان کے ستاروں کی طرح جہاں نظر ڈالو چمکتے نظر آتے ہیں ۔ کوئی صداقت نہیں جو اس سے باہر ہو۔ کوئی حکمت نہیں جو اس کے محیط بیان سے رہ گئی ہو۔ کوئی نور نہیں جو اس کی متابعت سے نہ ملتا ہو اور یہ باتیں بلا ثبوت نہیں ۔ کوئی ایسا امر نہیں جو صرف زبان سے کہا جاتا ہے بلکہ یہ وہ محقق اور بدیہی الثبوت صداقت ہے کہ جو تیرہ سو برس سے برابر اپنی روشنی دکھلاتی چلی آئی ہے اور ہم نے بھی اس صداقت کو سو برس اپنی اس کتاب میں نہایت تفصیل سے لکھا ہے اور دقائق اور معارف قرآنی کو اس قدر بیان کیا ہے کہ جو ایک طالب صادق کی تسلی اور تشفی کے لئے بحر عظیم کی طرح جوش مار رہے ہیں۔ ( براہین احمدیہ ہر چہار خصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۶۲ تا ۲۶۵ حاشیہ نمبر ۱۱) قرآن کریم کی شان بلند جواسی کے بیان سے ظاہر ہوتی ہے وَكُلُّ الْعِلْمِ فِي الْقُرْآنِ لَكِن تَقَاصَرَ مِنْهُ أَفْهَامُ الرِّجَالِ جاننا چاہئے کہ اس زمانہ میں اسباب ضلالت میں سے ایک بڑا سبب یہ ہے کہ اکثر لوگوں کی نظر میں عظمت قرآن شریف کی باقی نہیں رہی۔ ایک گروہ مسلمانوں کا ایسا فلاسفہ ضالہ کا مقلد ہو گیا کہ وہ ہر ایک امر کا عقل سے ہی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اُن کا بیان ہے کہ اعلیٰ درجہ کا حکم جو تصفیہ تنازعات کے لئے انسان کو ملا ہے وہ عقل ہی ہے۔ ایسے ہی لوگ جب دیکھتے ہیں کہ وجود جبرائیل اور عزرائیل اور دیگر ملائکہ کرام جیسا کہ شریعت کی کتابوں میں لکھا ہے اور وجود جنت و جہنم جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا