حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 502 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 502

۵۰۲ آں خداوندش بداد آن شرع و دیں کان نگردد تا ابد متغیرے کے تافت اول بر دیار تا زیان تا زیانش را شود درمان گرے ۲ بعد ازاں آن نور دین و شرع پاک شد محیط عالمی چوں چنبرے سے خلق را بخشید از حق کام جان وا رهانیده ز کام اژدری آ یک طرف حیران از و شاہان وقت نے بعلمش کس رسید و نے بزور یک طرف مبہوت ہر دانشوری ۵ در شکسته کبر ہر متکبری 1 し او چه می دارد بمدح کس نیاز مدح او خود فخر ہر مدحت گرے کے هست او در روضه قدس و جلال اے خدا بروے سلام ما رساں ہم بر را چاکریم ہمیچو خاکے اوفتاده و از خیال مادحان بالا ترے ^ اخوانش زہر پیغمبری 2 ہمہ پیغمبران ہر رسولے کو طریق حق نمود به بر درے نا جان ما قربان بر آں حق پروری اے اے خداوندم لے اس خدا نے اسے وہ شریعت اور دین عطا کیا۔ جو کبھی بھی تبدیل نہ ہوگا۔ پہلے وہ عرب کے ملک پر چمکاتا کہ اس ملک کی خرابیوں کا انسداد کرے۔ ے بعد ازاں وہ نور اور پاک شریعت تمام عالم پر آسمان کی طرح محیط ہو گئی۔ ے مخلوق کو خدا کی طرف سے مقصد زندگی بخشا اور ایک اژدھے کے منہ سے اسے رہائی دلائی۔ ایک طرف شاہان وقت اس سے حیران تھے دوسری طرف ہر عقل مند ششدر تھا۔ نہ اس کے علم تک کوئی پہنچا نہ اس کی طاقت تک اس نے ہر متکبر کے تکبر کو توڑ کر رکھ دیا۔ کے اسے کسی کی تعریف کی کیا حاجت ہے اس کی مدح ہر مدحت گر کے لئے باعث فخر ہے۔ وہ پاکیزگی اور جلال کے گلستان میں متمکن ہے اور تعریف کرنے و لن ہے اور تعریف کرنے والوں کے وہم سے بالاتر ہے۔ 2 اے خدا ہمارا سلام اس تک پہنچا دے نیز ہر پیغمبر پر جو اس کا بھائی ہے۔ خیل انبیاء کش فرستادی به فضل اوفری ۱۲ ہم تو سب پیغمبروں کے غلام ہیں اور خاک کی طرح اُن کے دروازہ پر پڑے ہیں الے ہر وہ رسول جس نے خدا کا راستہ دکھایا ہماری جان اُس راستباز پر قربان ہے اے میرے خدا ان انبیاء ۔ ن انبیاء کے گروہ کے طفیل جن کو تو نے بڑے بھاری فضلوں کے ساتھ بھیجا ہے۔