حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 500 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 500

۵۰۰ از شراب شوق جاناں بے خودی روشنی از وی بہر قومی رسید در سرش بر خاک بنہادہ سرے ! نور او رخشید بر هر کشوری ۲ آیت رحماں برائے ناتوانان را 6 به برحمت ہر بصیر حجت حق بہر ہر دیدہ ورے سے خستہ جاناں را به شفقت غم خوری ۴ 6 دستگیر حسن رویش ز ماه و آفتاب خاک کولیش به ز مشک و عنبری ۵ آفتاب و مه ، چہ نے ماند بدو در دلش از نورِ حق صد نیری 1 یک نظر بهتر از عمر جاوداں گرفتد کس را براں خوش پیکرے کے منکه از حسنش ہے دارم خبر جاں فشانم گر دہر دل دیگرے A یاد آن صورت مرا از خود برد ہر زمان مستم کند از ساغری 2 می پریدم سوئے کوئے اُو مدام من اگر می داشتم بال و پرے نا لاله و ریحان چه کار آید مرا من سرے دارم باں روؤ سرے اے خوبی او دامن دل می کشد موکشانم می برد زور آورے ۱۲ لے وہ محبوب کے عشق کی شراب میں بیخود ہے اُس کی محبت میں اُس نے اپنا سر خاک پر رکھا ہوا ہے۔ ہے اس سے ہر قوم کو روشنی پہنچی ۔ اُس کا نور ہر ملک پر چمکا۔ سے وہ ہر صاحب بصیرت کے لئے آیت اللہ اور ہر اہل نظر کے حجت حق ہے۔ کمزوروں کا رحمت کے ساتھ ہاتھ پکڑنے والا اور نا امیدوں کا شفقت کے ساتھ غمخوار۔ ے اس کے چہرہ کا حسن شمس و قمر سے زیادہ ہے اور اس کے کوچہ کی خاک، خوشبو مشک و عنبر سے زیادہ اچھی ہے۔ سورج اور چاند اس سے کیا مشابہت رکھ سکتے ہیں اس کے دل میں تو خدا کے نور سے سوسورج روشن ہیں۔ کے ہمیشہ کی زندگی سے ایک نظر بہتر ہے اگر اس پیکر حسن پر پڑ جائے ۔ میں جو اس کے حسن سے باخبر ہوں اس پر اپنی جان قربان کرتا ہوں جب کہ دوسرا صرف دل دیتا ہے۔ اس کی یاد مجھے بے خود بنا دیتی ہے وہ ہر وقت مجھے ایک ساغر سے مست رکھتا ہے۔ ملے میں ہمیشہ اس کے کوچہ میں اڑتا پھرتا اگر میں پر و بال رکھتا۔ الے لالہ وریحان میرے کس کام کے ہیں؟ میں تو اس چہرہ وسر سے تعو سے تعلق رکھتا ہوں ۔ اس کی خوبی دامن دل کو کھینچتی ہے اور ایک طاقتور ہستی مجھے کشاں کشاں لے جا رہی ہے۔