حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 497
۴۹۷ جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم شمار کوچه آل محمد است ! دیدم بعین قلب و شنیدم بگوش ہوش در هر مکان ندائے جلال محمد است ۲ ایں چشمہ رواں کہ بخلق خدا دهم یک قطره از بحر کمال محمد است ۳ این آتشم ز آتش مهر محمدی ست ویں آب من ز آب زلال محمد است ہے (ضمیمه اخبار ریاض ہند امرتسر مطبوعہ یکم مارچ ۱۸۸۶ء ۔ درمین فارسی شائع کردہ نظارت اشاعت صفحہ ۸۹ ) شان احمد را که داند جز خداوند کریم آنچنان از خود جدا شد کز میاں افتاد میم هم زاں نمط شد محو دلبر کز کمال اتحاد پیکر او شد سراسر صورت رب رحیم 1 ہوئے محبوب حقیقی مے دہرز آں روئے پاک ذات حقانی صفاتش مظہر ذات قدیم کے گرچه منسوبم کند کس سوئے الحاد و ضلال چوں دلِ احمد نے بینم دگر عرش عظیم ۸ منت ایزد را که من بر رغم اہل روزگار صد بلا را می خرم از ذوق آل عین النعیم 2 از عنایات خدا و از فضل آن دادار پاک دشمن فرعونیانم بهر عشق آں کلیم ما آں مقام و رتبت خاصش کہ برمن شد عیاں گفتی گردید سے طبعے دریں راہے سلیم 1 لے میری جان و دل محمد کے جمال پر فدا ہیں اور میری خاک آل محمد کے کوچے پر قربان ہے۔ ے میں نے دل کی آنکھوں سے دیکھا اور عقل کے کانوں سے سنا۔ ہر جگہ محمد کے جلال کا شہرہ ہے۔ معارف کا یہ دریائے رواں جو میں مخلوق خدا کو دے رہا ہوں یہ محمد کے کمالات کے سمندر میں سے ایک قطرہ ہے۔ ہے یہ میری آگ محمد کے عشق کی آگ کا ایک حصہ ہے اور میرا پانی محمد کے کے مع مصفی پانی میں سے لیا ہوا ہے۔ احمد کی شان کو سوائے خداوند کریم کے کون جان سکتا ہے وہ اپنی خودی سے اس طرح الگ ہو گیا کہ میم درمیان سے گر گیا۔ وہ اپنے معشوق میں اس طرح محو ہو گیا کہ کمال اتحاد کی وجہ سے اس کی صورت بالکل رب رحیم کی صورت بن گئی۔ کے محبوب حقیقی کی خوشبو اس کے چہرہ سے آ رہی ہے اس کی حقانی ذات خدائے قدیم کی ذات کی مظہر ہے۔ خواہ کوئی مجھے الحاد اور گمراہی سے ہی منسوب کرے مگر میں تو احمد کے دل جیسا اور کوئی عظیم الشان عرش نہیں دیکھتا۔ خدا کا شکر ہے کہ میں دنیا داروں کے برخلاف اس سر چشمہ نعمت کی خواہش کی وجہ سے سینکڑوں دکھ خریدتا ہوں ۔ ملے خدا کی مہربانیوں اور اس ذات اقدس کے فضل و کرم سے میں بھی اس کلیم کی محبت کی خاطر فرعونی لوگوں کا دشمن ہوں ۔ الے اس کا وہ خاص مقام اور مرتبہ جو مجھ ظاہر ہوا میں اس کا ضرور ذکر کرتا اگر اس راہ میں کوئی سلیم فطرت والا پاتا۔