حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 476
٤٦ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ لي ( سورة النحل الجزو ١٤)۔ اب غور سے دیکھنا چاہئے کہ وہ تینوں مقدمات متذکرہ بالا کہ جن سے ابھی ہم نے آنحضرت کے سچے ہادی ہونے کا نتیجہ نکالا تھا کہ کس خوبی اور لطافت سے آیات ممدوحہ میں درج ہیں ۔ اوّل گمراہوں کے دلوں کو جو صد ہا سال کی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے زمین خشک اور مردہ سے تشبیہ دے کر اور کلام الہی کا سے کو مینہ کا پانی جو آسمان کی طرف سے آتا ہے ٹھہرا کر اس قانونِ قدیم کی طرف اشارہ فرمایا جو امساک باراں کی شدت کے وقت ہمیشہ رحمت الہی بنی آدم کو برباد ہونے سے بچالیتی ہے اور یہ بات جتلا دی کہ یہ قانون قدرت صرف جسمانی پانی میں محدود نہیںبلکہ روحانی پانی بھی شدت اور صعوبت کے وقت میں جو پھیل جانا عام گمراہی کا ہے ضرور نازل ہوتا ہے۔ اور اس جگہ بھی رحمت الہی آفت قلوب کا غلبہ توڑنے کے لئے ضرور ظہور کرتی ہے۔ اور پھر انہیں آیات میں یہ دوسری بات بھی بتلا دی کہ آنحضرت کے ظہور سے پہلے تمام زمین گمراہ ہو چکی تھی۔ اور اسی طرح اخیر پر یہ بھی ظاہر کر دیا کہ ان روحانی مردوں کو اس کلام پاک نے زندہ کیا اور آخر یہ بات کہہ کر کہ اس میں اس کتاب کی صداقت کا نشان ہے۔ طالبین حق کو اس نتیجہ نکالنے کی طرف توجہ دلائی کہ فرقان مجید خدا کی کتاب ہے۔ اور جیسا کہ اس دلیل سے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی صادق ہونا ثابت ہوتا ہے ایسا ہی اس سے آنحضرت کا دوسرے نبیوں سے افضل ہونا بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ آنحضرت کو تمام عالم کا مقابلہ کرنا پڑا اور جو کام حضرت محمدوح کے سپرد ہوا وہ حقیقت میں ہزار دو ہزار نبی کا کام تھا۔ ( براہین احمد یہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد ا صفحه ۱۱۲ تا ۱۱۶ حاشیہ نمبر ۱۰) وہ زمانہ کہ جس میں آنحضرت مبعوث ہوئے حقیقت میں ایسا زمانہ تھا کہ جس کی حالت موجودہ ایک بزرگ اور عظیم القدر مصلح ربانی اور ہادی آسمانی کی اشد محتاج تھی۔ اور جو جو تعلیم دی گئی وہ بھی واقعہ میں سچی اور ایسی تھی کہ جس کی نہایت ضرورت تھی اور اُن تمام امور کی جامع تھی کہ جس سے تمام ضرورتیں زمانہ کی پوری ہوتی تھیں اور پھر اس تعلیم نے اثر بھی ایسا کر دکھایا کہ لاکھوں دلوں کو حق اور راستی کی طرف کھینچ لائی اور لاکھوں سینوں پر لَا إِلَهَ إِلَّا الله کا نقش جما دیا اور جو نبوت کی علت غائی ہوتی ہے یعنی تعلیم اصول نجات کے اس کو ایسا کمال تک پہنچایا جو کسی دوسرے نبی کے ہاتھ سے وہ کمال کسی زمانہ میں بہم نہیں پہنچا۔ تو ان واقعات پر نظر ڈالنے سے بلا اختیار یہ شہادت دل سے جوش مار کر نکلے گی کہ ل النحل : ۶۴ تا ۶۶