حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 473
۴۷۳ پر دلیل ہے کہ قرآن کا یہی دعوی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت میں تشریف لائے تھے جبکہ تمام دنیا اور تمام قو میں بگڑ چکی تھیں اور مخالف قوموں نے اس دعوی کو نہ صرف اپنی خاموشی سے بلکہ اپنے اقراروں سے مان لیا ہے۔ پس اس سے ببداہت نتیجہ نکلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت ایسے وقت میں آئے تھے جس وقت میں ایک سچے اور کامل نبی کو آنا چاہئے ۔ پھر جب ہم دوسرا پہلو دیکھتے ہیں کہ آنجناب صلعم کسی وقت واپس بلائے گئے تو قرآن صاف اور صریح طور پر ہمیں خبر دیتا ہے کہ ایسے وقت میں بلانے کا حکم ہوا کہ جب اپنا کام پورا کر چکے تھے یعنی اس وقت کے بعد بلائے گئے جبکہ یہ آیت نازل ہو چکی کہ مسلمانوں کے لئے تعلیم کا مجموعہ کامل ہو گیا اور جو کچھ ضروریات دین میں نازل ہونا تھا وہ سب نازل ہو چکا اور نہ صرف یہی بلکہ یہ بھی خبر دی گئی کہ خدا تعالیٰ کی تائیدیں بھی کمال کو پہونچ گئیں اور جوق در جوق لوگ دین اسلام میں داخل ہو گئے اور یہ آیتیں بھی نازل ہو گئیں کہ خدا تعالیٰ نے ایمان اور تقویٰ کو ان کے دلوں میں لکھ دیا اور فسق اور فجور سے انہیں بیزار کر دیا اور پاک اور نیک اخلاق سے وہ متصف ہو گئے اور ایک بھاری تبدیلی اُن کے اخلاق اور چلن اور روح میں واقع ہو گئی تب ان تمام باتوں کے بعد سورۃ النصر نازل ہوئی جس کا ماحصل یہی ہے کہ نبوت کے تمام اغراض پورے ہو گئے اور اسلام دلوں پر فتحیاب ہو گیا ۔ تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر اعلان دے دیا کہ یہ سورۃ میری وفات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ بلکہ اس کے بعد حج کیا اور اس کا نام حجة الوداع رکھا اور ہزار ہا لوگوں کی حاضری میں ایک اونٹنی پر سوار ہو کر ایک لمبی تقریر کی اور کہا کہ سنو! اے خدا کے بندو! مجھے میرے رب کی طرف سے یہ حکم ملے تھے کہ تا میں یہ سب احکام تمہیں پہونچا دوں ۔ پس کیا تم گواہی دے سکتے ہو کہ یہ سب باتیں میں نے تمہیں پہونچا دیں ۔ تب ساری قوم نے بآواز بلند تصدیق کی کہ ہم تک یہ سب پیغام پہونچائے گئے ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اے خدا ان باتوں کا گواہ رہ اور پھر فرمایا کہ یہ تمام تبلیغ اس لئے مکرر کی گئی کہ شاید آئندہ سال میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں گا اور پھر دوسری مرتبہ تم مجھے اس جگہ نہیں پاؤ گے۔ تب مدینہ میں جا کر دوسرے سال میں فوت ہو گئے ۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَ بَارِكْ وَسَلِّمُ - در حقیقت یہ تمام اشارات قرآن سے ہی مستنبط ہوتے ہیں ہیں۔ جس کی تصدیق اسلام کی متفق علیہ تاریخ سے یہ تفصیل تمام ہوتی ہے۔ اب کیا دنیا میں کوئی عیسائی یا یہودی یا آریہ اپنے کسی ایسے مصلح کو بطور نذیر پیش کر سکتا ہے جس کا آنا ایک عام اور اشد ضرورت پر مبنی ہو اور جانا اس غرض کی تکمیل کے بعد ہو اور ان مخالفوں کو اپنی ناپاک