حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 462
۴۶۲ کہ اُن کے بیٹوں یا پوتوں نے بھی انکار میں کچھ زبان کشائی نہ کی حالانکہ اُن پر واجب و لازم تھا کہ اتنا بڑا دعویٰ اگر افتر محض تھا اور صد ہا کوسوں میں مشہور ہو گیا تھا اُس کی رو میں کتابیں لکھتے اور دنیا میں شائع اور مشہور کرتے اور جبکہ ان لاکھوں آدمیوں عیسائیوں، عربوں، یہودیوں، مجوسیوں وغیرہ میں سے رو لکھنے کی کسی کو جرات نہ ہوئی اور جو لوگ مسلمان تھے وہ علانیہ ہزاروں آدمیوں کے روبرو چشمدید گواہی دیتے رہے جن کی شہادتیں آج تک اس زمانہ کی کتابوں میں مندرج پائی جاتی ہیں تو یہ صریح دلیل اس بات پر ہے کہ مخالفین ضرورشق القمر مشاہدہ کر چکے تھے اور رڈ لکھنے کیلئے کوئی بھی گنجائش باقی نہیں رہی تھی ۔ پھر ان سب باتوں کے بعد ہم یہ بھی لکھتے ہیں کہ شق القمر کے واقعہ پر ہندوؤں کی معتبر کتابوں میں بھی شہادت پائی جاتی ہے ۔ مہا بھارتہ کے دھرم پرب میں بیاس جی صاحب لکھتے ہیں کہ اُن کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو کر پھر مل گیا تھا۔ اور وہ اس شق قمر کو اپنے بے ثبوت خیال سے بسوا متر کا معجزہ قرار دیتے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی شہرت ہندوؤں میں مؤلف تاریخ فرشتہ کے وقت میں بھی بہت کچھ پھیلی ہوئی تھی کیونکہ اُس نے اپنی کتاب کے مقالہ یاز دہم میں ہندوؤں سے یہ شہرت یافتہ نقل لے کر بیان کی ہے کہ شہر دہار کہ جو متصل دریائے پہنبل صوبہ مالوہ میں واقع ہے اب اس کو شائد دہار انگری کہتے ہیں واں کا راجہ اپنے محل کی چھت پر بیٹھا تھا ایکبارگی اُس نے دیکھا کہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور پھر مل گیا اور بعد تفتیش اس راجہ پر کھل گیا کہ یہ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے تب وہ مسلمان ہو گیا۔ ( سرمه چشم آریہ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۲۲ تا ۱۲۷) ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جس قدر خدا تعالیٰ کی طرف سے نشان اور معجزات ملے وہ صرف اُس زمانہ تک محدود نہ تھے بلکہ قیامت تک اُن کا سلسلہ جاری ہے اور پہلے زمانوں میں جو کوئی نبی ہوتا تھا وہ کسی گذشتہ نبی کی اُمت نہیں کہلاتا تھا گو اس کے دین کی نصرت کرتا تھا اور اس کو سچا جانتا تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ایک خاص فخر دیا گیا ہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت ان پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ اُن کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ کوئی ایسا نبی ہے جو اُن کی اُمت سے باہر ہو بلکہ ہر ایک کو جو شرف مکالمہ الہیہ ملتا ہے وہ اُنہیں کے فیض اور اُنہیں کے وساطت سے ملتا ہے اور وہ امتی کہلاتا ہے نہ کوئی مستقل نبی اور رجوع کھڑے۔ خلائق اور قبولیت کا یہ عالم ہے کہ آج کم سے کم ہیں کروڑ ہر طبقہ کے مسلمان آپ کی غلامی میں کمر بستہ رے ہیں اور جب سے خدا نے آپ کو پیدا کیا ہے۔ بڑے ؟ ڑے بڑے زبردست بادشاہ جو ایک دنیا کو فتح