حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 454
لده لد چکے تھے سب کے سب اکٹھے ہو کر وہ کام اور وہ اصلاح کرنا چاہتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہرگز نہ کر سکتے ۔ اُن میں وہ دل ، وہ قوت نہ تھی جو ہمارے نبی کو ملی تھی ۔ اگر کوئی کہے کہ یہ نبیوں کی معاذ اللہ سوء ادبی ہے تو وہ نادان مجھ پر افترا کرے گا۔ میں نبیوں کی عزت و حرمت کرنا اپنے ایمان کا جزو سمجھتا ہوں لیکن نبی کریم کی فضلیت کل انبیاء پر میرے ایمان کا جزو اعظم ہے اور میری رگ وریشہ میں ملی ہوئی بات ہے۔ یہ میرے اختیار میں نہیں کہ اس کو نکال دوں ۔ بد نصیب اور آنکھ نہ رکھنے والا مخالف جو چاہے سو کہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کام کیا ہے جو نہ الگ الگ اور نہ مل مل کر کسی سے ہو سکتا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ الحکم ۱۷ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۲ ۳ ۔ ملفوظات جلد اول صفحہ ۴۲۰ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) یہودیوں کی کتب مقدسہ میں نہایت صفائی سے بیان کیا گیا ہے کہ موسیٰ کی مانند ایک منجی ان کے لئے بھیجا جائے گا۔ یعنی وہ ایسے وقت میں آئے گا کہ جب قوم یہود فرعون کے زمانہ کی طرح سخت ذلت اور دُکھ میں ہو گی اور پھر اس منجی پر ایمان لانے سے وہ تمام دکھوں اور ذلتوں سے رہائی پائیں گے تو کچھ شک نہیں کہ یہ پیشگوئی جس کی طرف یہود کی ہر زمانہ میں آنکھیں لگی رہی ہیں وہ ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے ذریعہ سے توریت کی پیشگوئی کمال وضاحت سے پوری ہو گئی کیونکہ جب یہودی ایمان لائے تو اُن میں سے بڑے بڑے بادشاہ ہوئے۔ یہ اس بات پر دلیل واضح ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام لانے سے ان کا گناہ بخشا اور اُن پر رحم کیا جیسا کہ توریت میں وعدہ تھا۔ ایام الصلح - روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۰۳٬۳۰۲) مسیح کو جو کچھ بزرگی ملی وہ بوجہ تابعداری حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی ملی کیونکہ مسیح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی خبر دی گئی اور مسیح آنجناب پر ایمان لایا اور بوجہ اس ایمان کے مسیح نے نجات پائی ۔ الحکم ۳۰ رجون ۱۹۰۱ء صفحه ۳ کالم نمبر ۲ ) جب ہم حضرت مسیح اور جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بات میں بھی مقابلہ کرتے ہیں کہ موجودہ گورنمنٹوں نے اُن کے ساتھ کیا برتاؤ کیا اور کس قدر ان کے ربانی رعب یا الہی تائید نے اثر دکھایا تو ہمیں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح میں بمقابلہ جناب مقدس نبوی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدائی تو کیا نبوت کی شان بھی پائی نہیں جاتی۔ جناب مقدس نبوی کے جب پادشاہوں کے نام فرمان جاری ہوئے تو قیصر روم نے آہ کھینچ کر کہا کہ میں تو عیسائیوں کے پنجہ میں مبتلا ہوں ۔ کاش اگر مجھے اس