حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 443 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 443

۴۴۳ سے شروع ہوتی ہے۔ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الخ ۔ اور بطور مثال اس لئے بیان کیا کہ تا اس دقیقۂ نازک کے سمجھنے میں ابہام اور دقت باقی نہ رہے کیونکہ معانی معقولہ کو صور محسوسہ میں بیان کرنے سے ہر ایک نبی و بلید بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ بقیہ ترجمہ آیات ممدوحہ یہ ہے۔ اُس نور کی مثال فرد کامل میں جو پی جو پیغمبر ہے ) یہ ہے جیسے ایک طاق (یعنی سینہ مشروح حضرت پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ) اور طاق میں ایک چراغ (یعنی وحی اللہ ) اور چراغ ایک شیشہ کی قندیل میں جو نہایت مصفی ہے ( یعنی نہایت پاک اور مقدس دل میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ہے جو کہ اپنی اصل فطرت میں شیشہ سفید اور صافی کی طرح ہر ایک طور کی کثافت اور کدورت سے منزہ اور مطہر ہے۔ اور تعلقات ماسوى الله سے اللہ سے بکلی پاک ہے ) اور شیشہ ایسا صاف کہ گویا اُن ستاروں میں سے ایک عظیم التورستارہ ہے جو کہ آسمان پر بڑی آب و تاب کے ساتھ چمکتے ہوئے نکلتے ہیں جن کو کو کب دری کہتے ہیں۔ (یعنی حضرت خاتم الانبیاء کا دل ایسا صاف کہ کو کپ دڑی کی طرح نہایت منور اور درخشندہ جس کی اندرونی روشنی اس کے بیرونی قالب پر پانی کی طرح بہتی ہوئی نظر آتی ہے ) وہ چراغ زیتون کے شجرہ مبارکہ سے (یعنی زیتون کے روغن سے ) روشن کیا گیا ہے۔ ( شجرۂ مبارکہ زیتون سے مراد وجود مبارک محمد مکی ہے کہ جو بوجہ نہایت جامعیت و کمال انواع و اقسام کی برکتوں کا مجموعہ ہے جس کا فیض کسی جہت و مکان و زمان سے مخصوص نہیں بلکہ تمام لوگوں کے لئے عام علی سبیل الدوام ہے اور ہمیشہ جاری ہے کبھی منقطع نہیں ہوگا) اور شجرہ مبارکہ نہ شرقی ہے نہ غربی (یعنی طینت پاک محمدی میں نہ افراط ہے نہ تفریط ۔ بلکہ نہایت توسط واعتدال پر واقع ہے پرمنی ، اور احسن تقویم پر مخلوق ہے اور یہ جو فرمایا کہ اس شجرہ مبارکہ کے روغن سے چراغ وحی روشن کیا گیا ہے سو روغن سے مراد عقل لطیف نورانی محمدی معه جميع اخلاق فاضلہ فطرتیہ ہے جو اس عقل کامل کے چشمہ صافی سے پروردہ ہیں۔ اور وحی کا چراغ لطائف محمد یہ سے روشن ہونا ان معنوں کر کے ہے کہ ان لطائف قابلہ پر وحی کا فیضان ہوا اور ظہور وحی کا موجب وہی ٹھہرے۔ اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ فیضانِ وحی ان لطائف محمد یہ کے مطابق ہوا اور انہیں اعتدالات کے مناسب حال ظہور میں آیا کہ جو طینت محمد یہ میں موجود تھی ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر یک وحی نبی منزل علیہ کی فطرت کے موافق نازل ہوتی ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جلال اور غضب تھا۔ توریت بھی موسوی فطرت کے موافق ایک جلالی شریعت نازل ہوئی ۔ حضرت مسیح : حضرت مسیح علیہ السلام کے مزاج میں حلم او حلم اور نرمی تھی سوانجیل کی تعلیم بھی حلم اور نرمی پر مشتمل ہے۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج بغایت درجہ وضع استقامت پر واقع