حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 433

۴۳۳ ا سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے در حقیقت تمام چیزوں پر خدا کو اختیار کر لیا تھا اور آپ کے ذرہ ذرہ اور رگ اور ریشہ میں خدا کی محبت اور خدا کی عظمت ایسے رچی ہوئی تھی کہ گویا آپ کا وجود خدا کی تجلیات کے پورے مشاہدہ کے لئے ایک آئینہ کی طرح تھا۔ خدا کی محبت کاملہ کے آثار جس قدر کی عقل سوچ سکتی ہے وہ تمام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود تھے۔ ( عصمت انبیاء علیہم السلام - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۵۵ تا ۶۶۶ ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن) سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اپنے جیسا خدا بھی نہیں بناتا کیونکہ اس کی صفت احدیت اور بے مثل اور مانند ہونے کی جواز کی ابدی طور پر اس میں پائی جاتی ہے اس طرف توجہ کرنے سے اُس کو روکتی ہے۔ بخشے گئے اور وہ ہاں اس طرح پر وہ اپنی ذات بے مثل و مانند کا نمونہ پیدا کرتا ہے کہ اپنی ذاتی خوبیاں جن پر اس کا علم محیط ہے عکسی طور پر بعض اپنی مخلوقات میں رکھ دیتا ہے۔ اور کمالات کا انتہائی درجہ جو حقیقی طور پر اس کو حاصل ہے ظلی طور پر اس مخلوق کو بھی بخش دیتا ہے جیسا کہ اسی کی طرف قرآن شریف میں اشارہ بھی ہے وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجت ہے ۔ اس جگہ صاحب درجات رفیعہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں جن کو ظلی طور پر انتہائی درجہ کے کمالات جو کمالات الوہیت کے اظلال و آثار ہیں خلافت حقہ جس کے وجود کامل کے تحقق کے لئے سلسلہ بنی آدم کا قیام بلکہ ایجاد کل کائنات کا ہوا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود سے اپنے مرتبہ اتم و اکمل میں ظہور پذیر ہو کر آئینہ خدا نما ہوئے۔ یہ بحث معارف الہیہ میں سے نہایت باریک بحث ہے اور ہمارے مخالفین جو ان نازک نکات عرفانی سے بیگانہ اور اس کو چہ اسرار الوہیت سے نا آشنا محض ہیں وہ تعجب کریں گے کہ کیونکر کروڑ ہا اور بے شمار مخلوقات میں سے صرف ایک ہی شخص کو مرتبہ کاملہ خلافت تامہ حقہ کا جو ظل مرتبہ الوہیت ہے حاصل ہو سکتا ہے۔ سو اگر چہ اس بحث کے طول دینے کا یہ موقع نہیں ہے لیکن تاہم اس قدر بیان کر دینا طالب حق کے سمجھانے کے لئے ضروری ہے کہ عادت اللہ یا تم یوں ہی سمجھ لو کہ اس کا قانون قدرت جو اس کی صفت وحدت کے مناسب حال ہے یہی ہے کہ وہ بوجہ واحد ہونے کے اپنے افعال خالقیت میں رعایت وحدت کو دوست رکھتا ہے جو کچھ اُس نے پیدا کیا ہے اگر ہم اس سب کی طرف نظر غور سے دیکھیں تو اس ساری مخلوقات کو جو اس دست قدرت سے صادر ہوئی ہے ایک ایسے سلسلہ وحدانی اور با ترتیب رشتہ میں منسلک پائیں گے کہ گویا وہ ایک خط مستقیم ممتد محدود ہے جس کی دونوں طرفوں میں سے ایک طرف البقرة : ۲۵۴