حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 34
۳۴ قریب ہے کہ ایک بڑا درخت ہو کر نظر آئے گا ۔ جسمانی خیالات کا انسان جسمانی باتوں کو پسند کرتا ہے ر اور اُن کو بڑی چیز سمجھتا ہے مگر جس کو کچھ روحانیت کا حصہ دیا گیا ہے وہ روحانی زندگی کا طالب ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ کے راستباز بندے دنیا میں اس لئے نہیں آتے کہ لوگوں کو تماشے دکھلا ئیں بلکہ اصل مطلب اُن کا جذب الی اللہ ہوتا ہے اور آخر کار وہ اسی قوت قدسیہ کی وجہ سے شناخت کئے جاتے ہیں۔ وہ نور جو اُن کے اندر قوت جذب رکھتا ہے اگر چہ کوئی شخص امتحان کے طور سے اس کو دیکھ نہیں سکتا بلکہ ٹھو کر کھاتا ہے مگر وہ نور آپ ہی ایک ایسی جماعت کو اپنی طرف کھینچ کر جو کھینچے جانے کے لائق ہے۔ اپنا خارق عادت اثر ظاہر کر دیتا ہے۔ (1) خدائے تعالی کے خالص دوستوں کی یہ علامتیں ہیں کہ ایک خالص محبت اُن کو عطا کی جاتی ہے جس کا اندازہ کرنا اس جہان کے لوگوں کا کام نہیں۔ (۲) ان کے دلوں پر ایک خوف بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ دقائق اطاعت کی رعایت رکھتے ہیں ایسا نہ ہو کہ یار قدیم آزردہ ہو جائے ۔ (۳) ان کو خارق عادت استقامت دی جاتی ہے کہ اپنے وقت پر دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے۔ (۴) جب ان کو کوئی بہت ستاتا ہے اور باز نہیں آتا تو اُن کے لئے غضب اس ذات قوی کا جو ان کا متوتی ہے یک دفعہ بھڑکتا ہے۔ (۵) جب ان سے سے کوئی بہت دوستی کرتا ہے اور سچی وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اُن کی راہ میں فدا ہو جاتا ہے تو خدائے تعالیٰ اس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس پر ایک خاص رحمت نازل کرتا ہے۔ (۶) اُن کی دعا ئیں یہ نسبت اوروں کے بہت زیادہ قبول ہوتی ہیں یہاں تک کہ وہ شمار نہیں کر سکتے کہ کس قدر قبول ہوئیں ۔ (۷) اُن پر اکثر اسرار غیب ظاہر کئے جاتے ہیں اور وہ باتیں جو ابھی ظہور میں نہیں آئیں اُن پر کھولی جاتی ہیں ۔ اگر چہ اور مومنوں کو بھی سچی خوا ہیں اور سچے مکاشفات معلوم ہو جاتے ہیں مگر یہ لوگ تمام دنیا سے نمبر اول پر ہوتے ہیں۔ (۸) خدائے تعالیٰ خاص طور پر ان کا متوتی ہو جاتا ہے اور جس طرح اپنے بچوں کی کوئی پرورش کرتا ہے اس سے بھی زیادہ نگاہ رحمت ان پر رکھتا ہے۔ (۹) جب ان پر کوئی بڑی مصیبت کا وقت آتا ہے تو اس وقت دوطور میں سے ایک طور کا اُن سے