حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 424
۴۲۴ ہوں یہ بجز اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا اور سچے متبع کے مقابل پر اگر کوئی عیسائی یا آریہ یا یہودی قبولیت کے آثار و انوار دکھلانا چاہے تو یہ اس کے لئے ہرگز ممکن نہ ہوگا اور نہایت صاف طریق امتحان کا یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان صالح کے مقابل پر جو سچا مسلمان اور سچائی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو کوئی دوسرا شخص عیسائی وغیرہ معارضہ کے طور پر کھڑا ہو اور یہ کہے کہ جس قدر تجھ پر آسمان سے کوئی نشان ظاہر ہو گا یا جس قدر اسرار غیبیہ تجھ پر کھلیں گے یا جو کچھ قبولیت دعاؤں سے تجھے مدد دی جائے گی یا جس طور تیری عزت اور شرف کے اظہار کے لئے کوئی نمونہ قدرت ظاہر کیا جائے گا یا اگر انعامات خاصہ کا بطور پیشگوئی تجھے وعدہ دیا جائے گا۔ یا اگر تیرے کسی موذی مخالف پر کسی تنبیہ کے نزول کی خبر دی جائے گی تو ان سب باتوں میں جو کچھ تجھ سے ظہور میں آئے گا۔ اور جو کچھ تو دکھائے گا وہ میں بھی دکھلاؤں گا تو ایسا معارضہ کسی مخالف سے ہرگز ممکن نہیں اور ہرگز مقابل پر نہیں آئیں گے کیونکہ ان کے دل شہادت دے رہے ہیں کہ وہ کذاب ہیں۔ انہیں اُس سچے خدا سے کچھ بھی تعلق نہیں کہ جو راستبازوں کا مددگار اور صدیقوں کا دوست دار ہے۔ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات - روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۸۰ تا ۴۸۲ ) خدا کے رسول کو ماننا توحید کے ماننے کے لئے علت موجبہ کی طرح ہے اور ان کے باہمی ایسے تعلقات ہیں کہ ایک دوسرے سے جدا ہو ہی نہیں سکتے اور جو شخ جو شخص بغیر پیروی رسول کے توحید کا دعوی کرتا ہے اس کے پاس صرف ایک خشک ہڈی ہے جس میں مغز نہیں اور اس کے ہاتھ میں محض ایک مردہ چراغ ہے جس میں روشنی نہیں ہے۔ اور ایسا شخص کہ جو یہ خیال کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص خدا کو واحد لاشریک جانتا ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانتا ہو وہ نجات پائے گا یقیناً سمجھو کہ اس کا دل مجزوم ہے اور وہ اندھا ہے اور اس کو توحید کی کچھ بھی خبر نہیں کہ کیا چیز ہے۔ اور ایسی توحید کے اقرار میں شیطان اس سے بہتر ہے کیونکہ اگر چہ شیطان عاصی اور نافرمان ہے لیکن وہ اس بات پر تو یقین رکھتا ہے کہ خدا موجود ہے مگر اس شخص کو تو خدا پر یقین بھی نہیں۔ (حقیقة الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۲۲) ۔ اب سیدنا و مولانا اگر اس جگہ یہ استفسار ہے استفسار ہو کہ اگر یہ درجہ اس عاجز اور عاجز اور مسیح کے لئے مسلّم ہے تو پھر جناب سیدنا سيد الكل وافضل الرسل حضرت خاتم النبیین محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کون سا درجہ باقی ہے؟ سو واضح ہو کہ وہ ایک اعلیٰ مقام اور برتر مرتبہ ہے جو اس ذات کامل الصفات پر ختم ہو گیا ہے جس کی کیفیت کو پہنچنا بھی کسی دوسرے کا کام نہیں چہ جائیکہ وہ کسی اور کو حاصل ہو سکے۔