حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 388
۳۸۸ وراء الوراء ہے۔ اور جس کا کوئی نمونہ اس دنیا میں موجود نہیں ۔ ان امور میں عقل ناقص انسانی غلطی سے تو کیا بچے گی کمال معرفت کے مرتبہ تک بھی نہیں پہنچا سکتی و دقتیں اُس نا دیدہ عالم کے واقعات میں پیش آتی ہیں اور جس طرح غیر مرئی اور غیب الغیب جہان کے تصور کرنے کے وقت میں حیرتیں رونما ہوتی ہیں اور نظر اور فکر کے آگے ایک دریا نا پیدا کنار دکھلائی دیتا ہے اس جگہ اس کا ہزارم حصہ بھی نہیں تو اس صورت میں اگر ہم صریحاً و عمداً بے راہی اختیار نہ کریں تو بلا شبہ اس اقرار کرنے کے لئے مجبور ہیں کہ ہمیں اس عالم کے حالات اور واقعات ٹھیک ٹھیک معلوم کرنے کے لئے اور اُن پر یقین کامل لانے کی غرض سے دنیا کی نسبت صد ہا درجہ زیادہ مؤرخوں اور واقعہ نگاروں اور تجربہ کاروں کی حاجت ہے اور جبکہ اس عالم کا مؤرخ اور واقعہ نگار بجز خدا کی کلام کے کوئی اور نہیں ہو سکتا اور ہمارے یقین کا جہاز بغیر وجود واقعہ نگار کے تباہ ہوا جاتا ہے۔ اور بادصر صر وساوس کی ایمان کی کشتی کو ورطہ ہلاکت میں ڈالتی جاتی ہے تو اس صورت میں کون عاقل ہے کہ جو صرف عقل ناقص کی رہبری پر بھروسہ کر کے ایسے کلام کی ضرورت سے منہ پھیرے جس پر اس کی جان کی سلامتی موقوف ہے اور جس کے مضامین صرف قیاسی اٹکلوں میں محدود نہیں بلکہ وہ عقلی دلائل کے علاوہ بحیثیت ایک مؤرخ صادق عالم ثانی کے واقعات صحیحہ کی خبر بھی دیتا ہے اور چشم دید ماجرا بیان کرتا ہے۔ ( براہین احمد یہ ہر چہار تخصص - روحانی خزائن جلد ا صفحه ۳۲۷ تا ۳۳۵ حاشیہ نمبر ۱۱) حضرات!! تم خوب سوچ کر دیکھ لو کہ الہام کے بغیر نہ یقین کامل ممکن ہے نہ غلطی سے بچنا ممکن ۔ نہ توحید خالص پر قائم ہونا ممکن ۔ نہ جذبات نفسانیہ پر غالب آنا حیز امکان میں داخل ہے۔ وہ الہام ہی ہے جس کے ذریعہ سے خدا کی نسبت ہے کی دھوم مچی ہوئی ہے اور تمام دنیا ہست ہست کر کے اُس کو پکار رہی ہے وہ الہام ہی ہے جو ابتدا سے دلوں میں جوش ڈالتا آیا کہ خدا موجود ہے۔ وہی ہے جس سے پرستاروں کو پرستش کی لذت آتی ہے۔ ایمان داروں کو خدا کے وجود اور عالم آخرت پر تسلی ملتی ہے۔ وہی ہے جس سے کروڑ ہا عارفوں نے بڑی استقامت اور جوش محبت الہیہ سے اس مسافر خانہ کو چھوڑا ۔ وہی ہے جس کی صداقت پر ہزار ہا شہیدوں نے اپنے خون سے مہریں کر دیں۔ ہاں وہی ہے جس کی قوت جاذبہ سے بادشاہوں نے فقر کا جامہ پہن لیا۔ بڑے بڑے مالداروں نے دولتمندی پر درویشی اختیار کر لی۔ اس کی برکت سے لاکھوں امی اور نا خواندہ اور بوڑھی عورتوں نے بڑے پُر جوش ایمان سے کوچ کیا ۔ وہی ایک کشتی ہے جس نے بارہا یہ کام کر دکھایا کہ بے شمار لوگوں کو ورطۂ مخلوق پرستی اور بدگمانی