حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 381 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 381

۳۸۱ بد بختی اور بد نصیبی اور ناکامی کی حالت میں ایلی ایلی کرتا مر گیا۔ آخر الہام ہی تھا جس نے اس غلطی کو بھی دور کیا ۔ سبحان اللہ ! کیا بزرگ اور دریائے رحمت وہ کا وہ کلام ہے جس نے مخلوق پرستوں کو پھر توحید کی طرف کھینچا ۔ واہ! کیا پیارا اور دلکش وہ نور ہے کہ جو ایک عالم کو ظلمت کدہ سے باہر لایا اور بجز اس کے ہزار ہا لوگ عقلمند کہلا کر اور فلاسفر بن کر اس غلطی اور اس قسم کی بے شمار غلطیوں میں ڈوبے رہے اور جب تک قرآن شریف نہ آیا کسی حکیم نے زور شور سے اس اعتقاد باطل کا رڈ نہ لکھا اور نہ اس قوم تباہ شدہ کی اصلاح کی بلکہ خود حکماء اس قسم کے صد ہا نا پاک عقیدوں میں آلودہ اور مبتلا تھے ۔ جیسا پادری یوت صاحب لکھتے ہیں کہ حقیقت میں یہ عقیدہ تثلیث کا عیسائیوں نے افلاطون سے اخذ کیا ہے۔ اور اس احمق یونانی کی غلط بنیاد پر ایک دوسری غلط بنیا د رکھ دی ہے۔ غرض خدا کا سچا اور کامل الہام عقل کا دشمن نہیں ہے بلکہ عقل ناقص نیم عاقلوں کی آپ دشمن ہے جیسا ظاہر ہے کہ تریاق فی حد ذاتہ انسان کے بدن کے لئے کوئی بُری چیز نہیں ہے لیکن اگر کوئی اپنی کو تہ عقلی سے زہر کو تریاق سمجھ لے تو یہ خود اس کی عقل کا قصور ہے نہ تریاق کا۔ پس یاد رکھنا چاہئے کہ یہ وہم کہ ہر یک امر کی تفتیش کے لئے الہامی کتاب کی طرف رجوع کرنا محل خطر ہے یہ سراسر حمق اور نادانی ہے ۔ کیونکہ جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں الہام عقل کے لئے ایک آئینہ حق نما ہے اور اس کی سچائی پر بھی یہی دلیل اعظم ہے کہ وہ ایسے تمام امور سے بکلی پاک ہے کہ جو خدا کی قدرت اور کمالیت اور قدوسی پر نظر کرنے کے بعد محال ثابت ہوں ۔ بلکہ دقائق اللہیات میں کہ جو نہایت مخفی اور عمیق ہیں عقل ضعیف انسانی کا وہی ایک ہادی اور رہبر ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اس کی طرف رجوع کرنا عقل کو بے کار نہیں کرتا بلکہ عقل کو ان باریک بھیدوں تک پہنچاتا ہے جن تک خود بخود پہنچنا عقل کے لئے سخت مشکل تھا ۔ سوالہام حقیقی سے یعنی قرآن شریف سے عقل کو سراسر فائدہ اور نفع پہنچتا ہے نہ زیاں اور نقصان اور عقل بذریعہ الہام حقیقی خطرات سے بچ جاتی ہے نہ یہ کہ خطرات میں پڑتی ہے کیونکہ یہ بات ہر یک دانا کے نزدیک مسلم بلکہ اجلی بدیہات ہے کہ محض تشخیص عقلی میں خطا اور غلطی ممکن ہے۔ لیکن عالم الغیب کی کلام میں خطا اور غلطی ممکن نہیں۔ پس اب تم آپ ہی ذرہ منصف ہو کر سوچو کہ جس چیز کو کبھی کبھی سخت لغزشیں پیش آ جاتی ہیں۔ اگر اس کے ساتھ ایک ایسا رفیق ملایا گیا کہ جو اس کو لغزشوں سے بچاوے اور پائو پھسلنے کی جگہ سے سنبھل رکھے تو کیا اس کے لئے اچھا ہوا یا بُرا ہوا۔ اور کیا اس رفیق نے اس کو اپنے کمال مطلوب تک پہنچایا یا کمال مطلوب سے روک دیا ؟ یہ کیسی کور باطنی ہے کہ معین اور مددگار کو لیے سہو کتابت ہے صحیح پورٹ (JOHN DAVENPORT) ہے۔ناشر