حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 368

۳۶۸ ہدایت کا فیضان اُنہیں کے ذریعہ سے مقرر کیا ہے کیونکہ وہ کامل مناسبت جو مفیض اور مستفیض میں چاہیئے وہ صرف انہیں کو عنایت کی گئی ہے۔ اور یہ ہرگز ممکن نہیں کہ خدا وند تعالیٰ جو نہایت تجرد و تنزّہ میں ہے ایسے لوگوں پر افاضہ انوار وحی مقدس اپنے کا کرے جن کی فطرت کے دائرہ کا اکثر حصہ ظلمانی اور دود آمیز ہے اور نیز نہایت تنگ اور منقبض اور جن کی طبائع جسیسہ کدورات سفلیہ میں منغمس اور آلودہ ہیں اگر ہم اپنے تئیں آپ ہی دھو کہ نہ دیں تو بے شک ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ مبدء قدیم سے اتصال تام پانے کے لئے اور اس قدوس اعظم کا ہم کلام بننے کے لئے ایک ایسی خاص قابلیت اور نورانیت شرط ہے کہ جو اس مرتبہ عظیم کی قدر اور شان کے لائق ہے۔ یہ بات ہرگز نہیں کہ ہر یک شخص جو عین نقصان اور فرومائیگی اور آلودگی کی حالت میں ہے اور صد ہا جب ظلمانیہ میں محجوب ہے وہ باوصف اپنی پست فطرتی اور دون ہمتی کے اس مرتبہ کو پا سکتا ہے۔ اس بات سے کوئی دھو کہ نہ کھاوے کہ منجملہ اہل کتاب عیسائیوں کا یہ خیال ہے کہ انبیاء کے لئے جو وحی اللہ کے منزل علیہ ہیں تقدس اور نیزہ اور عصمت اور کمال محبت الہیہ حاصل نہیں کیونکہ عیسائی لوگ اصول حقہ کو کھو بیٹھے ہیں اور ساری صداقتیں صرف اس خیال پر قربان کر دی ہیں کہ کسی طرح حضرت مسیح خدا بن جائیں اور کفارہ کا مسئلہ جم جائے۔ سو چونکہ نبیوں کا معصوم اور مقدس ہونا اُن کی اس عمارت کو گراتا ہے جو وہ بنا رہے ہیں اس لئے ایک جھوٹ کی خاطر سے دوسرا جھوٹ بھی انہیں گھڑنا پڑا۔ اور ایک آنکھ کے مفقود ہونے سے دوسری بھی پھوڑنی پڑی۔ پس نا چارا نہوں نے باطل سے پیار کر کے حق کو چھوڑ دیا۔ نبیوں کی اہانت روا رکھی ۔ پاکوں کو نا پاک بنایا اور ان دلوں کو جو مهبط وحی تھے کثیف اور مکد رقرار دیا تا کہ اُن کے مصنوعی خدا کی کچھ عظمت نہ گھٹ جائے یا منصوبہ کفارہ میں کچھ فرق نہ آ جائے ۔ اسی خود غرضی کے جوش سے انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اس سے فقط نبیوں کی تو ہیں نہیں ہوتی بلکہ خدا کی قدوسی پر بھی حرف آتا ہے کیونکہ جس نے نعوذ باللہ ناپاکوں سے ربط ارتباط اور میل ملاپ رکھا وہ آپ بھی کا ہے کا پاک ہوا ۔ ( براہین احمد یہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۸۸ تا ۱۹۰ حاشیہ نمبر ۱۱) نو روحی کے نازل ہونے کا یہی فلسفہ ہے کہ وہ نور پر ہی وارد ہوتا ہے تاریکی پر وارد نہیں ہوتا۔ کیونکہ فیضان کے لئے مناسبت شرط ہے اور تاریکی کو نور سے کچھ مناسبت نہیں بلکہ نور کو نور سے مناسبت ہے اور حکیم مطلق بغیر رعایت مناسبت کوئی کام نہیں کرتا ۔ ایسا ہی فیضان نور میں بھی اس کا یہی قانون ہے کہ جس کے پاس کچھ نور ہے اُسی کو اور نور بھی دیا جاتا ہے ۔ اور جس کے پاس کچھ نہیں اس کو کچھ نہیں