حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 366 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 366

۳۶۶ آپ ہی اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللهِ اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالته - الجزو نمبر ۸ یعنی جس وقت قرآن کی حقیت ظاہر کرنے کے لئے کوئی نشانی کفار کو دکھلائی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ جب تک خود ہم پر ہی کتاب الہی نازل نہ ہو تب تک ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے خدا خوب جانتا ہے کہ کسی جگہ اور کس محل پر رسالت کو رکھنا چاہئے یعنی قابل اور نا قابل اسے معلوم ہے اور اُسی پر فیضانِ الہام کرتا ہے کہ جو جوہرِ قابل ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حکیم مطلق نے افراد بشریہ کو بوجہ مصالحہ مختلفہ مختلف طوروں پر پیدا کیا ہے۔ اور تمام بنی آدم کا سلسلۂ فطرت ایک ایسے خط سے مشابہ رکھا ہے جس کی ایک طرف نہایت ارتفاع پر واقعہ ہوا اور دوسری طرف نہایت انحصاض پر ۔ طرف ارتفاع میں وہ نفوس صافیہ ہیں جن کی استعدادیں حسب مراتب متفاوتہ کامل درجہ پر ہیں اور طرف اِنْحِضَاض میں وہ نفوس ہیں جن کو اس سلسلہ میں ایسی پست جگہ ملی ہے کہ حیوانات لا یعقل کے قریب قریب پہنچ گئے ہیں اور درمیان میں وہ نفوس ہیں جو عقل وغیرہ میں درمیان کے درجہ میں ہیں اور اس کے اثبات کے لئے مشاہدہ افرادِ مُخْتَلِفَةُ الإِسْتِعْدَاد کافی دلیل ہے کیونکہ کوئی عاقل اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ افراد بشریہ عقل کے رُو سے تقوی اور خدا ترسی کے لحاظ سے محبت الہیہ کی وجہ سے مختلف مدارج پر پڑی ہوئی ہیں اور جس طرح قدرتی واقعات سے کوئی خوبصورت پیدا ہوتا ہے کوئی بدصورت کوئی سوجا کھا ، کوئی اندھا، کوئی ضعیف البصر ، کوئی قوی البصر ، کوئی تام الخلقت، کوئی ناقص الخلقت اسی طرح قوی دماغی اسی طرح قومی دماغیہ اور انوار قلبیہ کا یہ کا تفاوت مراتب بھی مشہود اور محسوس ۔ شہود اور محسوس ہے۔ ہاں یہ سچ بات ہے که هر یک فرد بشر بشر طیکه زا مخبط الحواس اور مسلوب العقل نہ ہو۔ عقل میں تقویٰ میں محبت الہیہ میں ترقی کر سکتا ہے مگر اس بات کو بخوبی یا د رکھنا چاہئے کہ کوئی نفس اپنے دائرہ قابلیت سے زیادہ ہرگز ترقی نہیں کر سکتا۔ ( براہین احمد یہ ہر چہار تخصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۸۱ ۱۸۲ حاشیہ نمبر ۱۱) طبائع انسانی جواہر کانی کی طرح مختلف الاقسام ہیں ۔ بعض طبیعتیں چاندی کی طرح روشن اور صاف ۔ بعض گندھک کی طرح بد بودار اور جلد بھڑکنے والی ۔ بعض زیبق کی طرح بے ثبات اور بے قرار ۔ بعض لوہے کی طرح سخت اور کثیف اور جیسا یہ اختلاف طبائع بدیہی الثبوت ہے ایسا ہی انتظام ربانی کے بھی موافق ہے کچھ بے قاعدہ بات نہیں ۔ کوئی ایسا امر نہیں کہ قانون نظام عالم کے برخلاف ہو بلکہ آسائش و آبادی عالم اسی پر موقوف ہے ۔ ظاہر ہے کہ اگر تمام طبیعتیں ایک ہی مرتبہ استعداد پر ہوتیں تو الانعام : ۱۲۵