حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 358
۳۵۸ عزت کے آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں اور جو عزت اور نصرت کی بشارت پر مشتمل ہوتے ہیں۔ نہ نحوست اور نہ نکبت پر ۔ قرآن شریف کی پیشین گوئیوں پر نظر ڈالو تو معلوم ہو کہ وہ نجومیوں وغیرہ درماندہ لوگوں کی طرح ہرگز نہیں بلکہ اُن میں صریح ایک اقتدار اور جلال جوش مارتا ہوا نظر آتا ہے اور اس میں تمام پیشین گوئیوں کا یہی طریق اور طرز ہے کہ اپنی عزت اور دشمن کی ذلت اور اپنا اقبال اور دشمن کا ادبار اور اپنی کامیابی اور دشمن کی ناکامی اور اپنی فتح اور دشمن کی شکست اور اپنی ہمیشہ کی سرسبزی اور دشمن کی تباہی ظاہر کی ہے۔ کیا اس قسم کی پیشین گوئیاں کوئی نجومی بھی کر سکتا ہے یا کسی رمال یا مسمریزم کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہو سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔ ہمیشہ اپنی ہی خیر ظاہر کرنا اور مخالف کا زوال اور وبال جتلانا اور جو بات مخالف منہ پر لاوے اُسی کو توڑنا اور جو بات اپنے مطلب کی ہو اُس کے ہو جانے کا وعدہ کرنا یہ تو صریح خدائی ہے انسان کا کام نہیں۔ ( براہین احمد یہ ہر چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۳۲ تا ۲۴۲ بقیه حاشیہ نمبر ۱۱) انسان باوجود یکہ ہزار ہا برسوں سے اپنے علوم طبعیہ اور ریاضیہ کے ذریعہ سے خدا کی قدرتوں کے دریافت کرنے کے لئے جان توڑ کوششیں کر رہا ہے مگر ابھی تک اس قدر اس کے معلومات میں کمی ہے کہ اس کو نامراد اور نا کام ہی کہنا چاہئے ۔ صدہا اسرار غیبیہ اہل کشف اور اہل مکالمہ الہیہ پر گھلتے ہیں اور ہزار ہا راستباز ان کے گواہ ہیں مگر فلسفی لوگ اب تک ان کے منکر ہیں۔ جیسا کہ فلسفی لوگ تمام مدار ادراک معقولات اور تدبر اور تفکر کا دماغ پر رکھتے ہیں مگر اہلِ کشف نے اپنی صحیح رؤیت اور روحانی تجارب کے ساتھ معلوم کیا ہے کہ انسانی عقل اور معرفت کا سرچشمہ دل ہے۔ جیسا کہ میں پینتیس برس ۳۵ سے اس بات کا مشاہدہ شاہدہ کر رہا ہوں کہ خدا کا ا را کا الہام جو معارف روحانیہ اور علوم غیبیہ کا ذخیرہ ہے دل پر ہی نازل ہوتا ہے بسا اوقات ایک ایسی آواز سے دل کا سر چشمہ علوم ہونا کھل جاتا ہے کہ وہ آواز دل پر اس طور سے بشدت پڑتی ہے کہ جیسے ایک ڈول زور کے ساتھ ایک ایسے کنوئیں میں پھینکا جاتا ہے جو پانی سے بھرا ہوا ہے تب وہ دل کا پانی جوش مار کر ایک غنچہ کی شکل میں سر بستہ اوپر کو آتا ہے اور دماغ کے قریب ہو کر پھول کی طرح کھل جاتا ہے اور اس میں سے ایک کلام پیدا ہوتا ہے وہی خدا کا کلام ہے۔ پس ان تجارب صحیحہ روحانیہ سے ثابت ہے کہ دماغ کو علوم اور معارف سے کچھ تعلق نہیں۔ ہاں اگر دماغ صحیح واقعہ ہو اور اس میں کوئی آفت نہ ہو تو وہ دل کے علوم مخفیہ سے مستفیض ہوتا ہے اور دماغ چونکہ منبت اعصاب ہے اس لئے وہ ایسی گن کی طرح ہے جو پانی کو کنوئیں سے کھینچ سکتی ہے اور دل وہ کنواں ہے جو