حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 354

۳۵۴ صالح آدمی نیک راہ میں فکر کر کے نیک باتیں نکالتا ہے اور چور نقب زنی کے باب میں فکر کر کے کوئی عمدہ طریق نقب زنی کا ایجاد کرتا ہے۔ غرض جس طرح بدی کے بارے میں انسان کو بڑے بڑے عمیق اور نازک بدی کے خیال سوجھ جاتے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس اُسی وقت کو جب انسان نیک راہ میں استعمال کرتا ہے تو نیکی کے عمدہ خیال بھی سوجھ جاتے ہیں ۔ اور جس طرح بد خیالات کو کیسے ہی عمیق اور دقیق اور جادو اثر کیوں نہ ہوں خدا کا کلام نہیں ہو سکتے ایسا ہی انسان کے خود تراشیدہ خیالات جن کو وہ اپنے زعم میں نیک سمجھتا ہے کلام الہی نہیں ہیں۔ خلاصہ یہ کہ جو کچھ نیکوں کو نیک حکمتیں یا چوروں اور ڈاکوؤں اور خونیوں اور زانیوں اور جعلسازوں کو فکر اور نظر کے بعد بری تدبیریں سوجھتی ہیں وہ فطرتی آثار اور خواص ہیں ۔ اور بوجہ علت العلل ہونے حضرت باری کے اُن کو خلق اللہ کہا جاتا ہے نہ امر اللہ ۔ وہ انسان کے لئے ایسے ہی فطرتی خواص ہیں جیسے نباتات کے لئے قوت اسہال یا قوت قبض یا دوسری قوتیں فطرتی خواص ہیں ۔ غرض جیسا اور چیزوں میں حکیم مطلق نے طرح طرح کے خواص رکھے ہیں ایسا ہی انسان کی قوت متفکرہ میں یہ خاصہ رکھا ہے کہ جس نیک یا بد میں انسان اس سے مددا مدد لینا چاہتا ہے اُسی قسم کی اس سے مدد ملتی ہے۔ ایک شاعر کسی کی ہجو میں شعر بناتا ہے۔ اس کو فکر کرنے سے ہجو کے شعر سوجھتے جاتے ہیں۔ دوسرا شاعر اسی شخص کی تعریف کرنی چاہتا ہے اس کو تعریف کا ہی مضمون سوجھتا ہے۔ سو اس قسم کے خیالات نیک اور بد خدا کی خاص مرضی کا آئینہ نہیں ہو سکتے اور نہ اُس کا کام اور کلام کہلا سکتے ہیں ۔ خدا کا پاک کلام وہ کلام ہے کہ جو انسانی قومی سے بکلی برتر واعلیٰ ہے۔ اور کمالیت اور قدرت اور تقدس سے بھرا ہوا ہے جس کے ظہور و بروز کے لئے لئے اوّل شرط یہی ہے ہے کہ کہ بشری بشری قوتیں تو بکلی معطل اور بے کار ہوں ۔ نہ فکر ہو نہ نظر ہو بلکہ انسان مثل میت کے ہو اور سب اسباب منقطع ہوں ۔ اور خدا جس کا وجود واقعی اور حقیقی ہے آپ اپنے کلام کو اپنے خاص ارادہ سے کسی کے دل پر نازل کرے۔ پس سمجھنا چاہئے کہ جس طرح آفتاب کی روشنی صرف آسمان سے آتی ہے آنکھ کے اندر سے پیدا نہیں ہو سکتی اسی طرح نور الہام کا بھی خاص خدا کی طرف سے اور اس کے ارادہ سے نازل ہوتا ہے۔ یونہی اندر سے جوش نہیں مارتا ۔ جبکہ خدا فی الواقعہ موجود ہے اور فی الواقع وہ دیکھتا ، سُننا ، جانتا ، کلام کرتا ہے تو پھر اُس کا کلام اُسی کی قیوم کی طرف سے نازل ہونا چاہئے نہ یہ کہ انسان کے اپنے ہی خیالات خدا کا کلام بن جائیں۔ ہمارے اندر سے وہی خیالات بھلے یا برے جوش مارتے ہیں کہ جو ہمارے اندازہ فطرت کے مطابق ہمارے اندر سمائے ہوئے ہیں مگر خدا کے بے انتہا علم اور بے شمار حکمتیں ہمارے دل میں کیونکر سما سکیں ۔ اس سے زیادہ تر اور کیا