حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 350

۳۵۰ درد طاقت الہام ربانی ہے جو عین دُکھ کے وقت میں سرور پہنچاتا ہے۔ اور مصائب کے ٹیلوں اور پہاڑوں کے نیچے بڑے آرام اور لذت کے ساتھ کھڑا کر دیتا ۔ ہے۔ وہ دقیق و وه دقیق در دقیق وجود جس نے عقلی طاقتوں کو خیرہ کر رکھا ہے اور تمام حکیموں کی عقل اور دانش کو سکتہ میں ڈال دیا ہے وہ الہام ہی کے ذریعہ سے کچھ اپنا پتہ دیتا ہے اور انا الموجود کہہ کر سالکوں کے دلوں کو تسلی بخشا ہے اور سکینت نازل کرتا ہے اور انتہائی وصول کی ٹھنڈی ہوا سے جان پژمردہ کو تازگی بخشتا ہے۔ یہ بات تو سچ کہ قرآن کریم ہدایت دینے کے لئے کافی ہے۔ مگر قرآن کریم جس کو ہدایت کے چشمہ تک پہنچاتا ہے اس میں پہلی علامت یہی پیدا ہو جاتی ہے کہ مکالمہ طیبہ الہیہ اُس سے شروع ہو جاتا ہے جس سے نہایت درجہ کی انکشافی معرفت اور چشم دید برکت و نورانیت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ عرفان حاصل ہونا شروع ہو جاتا ہے جو مجرد تقلیدی اٹکلوں یا عقلی ڈھکوسلوں سے ہرگز نہیں مل سکتا کیونکہ تقلیدی علوم محدود و مشتبہ ہیں اور عقلی خیالات ناقص و ناتمام ہیں اور ہمیں ضرور حاجت ہے کہ براہ راست اپنے عرفان کی توسیع کریں۔ کیونکہ جس قدر ہمارا عرفان ہو گا اُسی قدر ہم میں ولولہ وشوق جوش مارے گا۔ کیا ہمیں باوجود ناقص عرفان کے کامل ولولہ وشوق کی کچھ توقع ہے؟ نہیں کچھ بھی نہیں سو حیرت اور تعجب ہے کہ وہ لوگ کیسے بد فہم ہیں جو ایسے ذریعہ کاملہ وصول حق سے اپنے تئیں مستغنی سمجھتے ہیں جس سے روحانی زندگی وابستہ ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ روحانی علوم اور روحانی معارف صرف بذریعہ الہامات و مکاشفات ہی ملتے ہیں ۔ اور جب تک ہم وہ درجہ روشنی کا نہ پالیں تب تک ہماری انسانیت کسی حقیقی معرفت یا حقیقی کمال سے بہرہ یاب نہیں ہو سکتی۔ ہم ایک بڑے بھاری مطلب کے لئے جو یقینی معرفت ہے پیدا کئے گئے ہیں اور وہی معرفت ہماری نجات کا مدار بھی ہے جو ہر ایک خبیث اور مغشوش طریق سے ہمیں آزادی بخش کر ایک پاک اور شفاف دریا کے کنارہ پر ہمارا منہ رکھ دیتی ہے اور وہ صرف بذریعہ الہام الہی ہمیں ملتی ہے۔ جب ہم اپنے نفس سے بکلی فنا ہو کر دردمند دل کے ساتھ لا یدرک وجود میں ایک گہرا غوطہ مارتے ہیں تو ہماری بشریت الوہیت کے دربار میں پڑنے سے عند العود کچھ آثار و انوار اس عالم کے ساتھ لے آتی ہے۔ سوجس چیز کو اس دنیا کے لوگ بنظر حقارت دیکھتے ہیں در حقیقت وہی ایک چیز ہے جو مدت کے جُدا شدہ کو ایک دم میں اپنے محبوب سے ملاتی ہے وہی ہے جس سے عشاق الہی تسلی پاتے ہیں اور طرح طرح کی نفسانی قیدوں سے بیک بار اپنا پیر باہر نکال لیتے ہیں جب تک وہ سچی روشنی دلوں پر نازل نہ ہو ہرگز ممکن ہی نہیں کہ کوئی دل منور ہو