حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 333
۳۳۳ در آتش تن بآسانی توان داد ز ہجرت جان رود با صد فغانم ! (حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۵۵، ۳۵۶) اے یارِ ازل بس است روئے تو مرا بہتر ز ہزار خلد کوئے تو مرا ہے از مصلحتی دگر طرف بینم لیک هر لحظه نگاه هست سوئے تو مرا سے بر عزت من اگر کسے حملہ کند صبر است طریق ہمیچو خوئے تو مرا ہے من چیستم و چه عربتم هست مگر جنگ است ز بیر آبروئے تو مرا ۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۵۳) لے آگ کے اندر بدن آسانی سے ڈالا جا سکتا ہے مگر تیری جدائی سے میری جان آہ وفغاں کرتی ہوئی نکلتی ہے۔ ہے اے خدائے لم یزل میرے لئے تیرا چہرہ کافی ہے اور تیری گلی میرے لئے ہزار جنتوں سے بڑھ کر ہے۔ سے میں کسی مصلحت کی وجہ سے اور طرف دیکھ لیتا ہوں۔ ورنہ ہر وقت میری نظر تو تیری ہی جانب لگی ہوئی ہے۔ ہے اگر کوئی میری عزت پر حملہ کرتا ہے تو تیری عادت کی طرح میرا طریقہ بھی صبر ہے۔ ے میں کون ہوں اور میری کیا عزت ہے لیکن تیری عزت کی خاطر یہ میری جنگ ہے۔