حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 325
۳۲۵ چشمه خورشید میں موجیں تری مشہود ہیں ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی راہ ہے ترے دیدار کا ہر ستارے میں تماشہ ہے تری چمکار کا تو نے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑ کا نمک اُس سے ہے شورِ محبت عاشقان زار کا کیا عجب تو نے ہر اک ذرہ میں رکھتے ہیں خواص کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں کس سے کھل سکتا ہے بیچ اس عقدہ دشوار کا خوب روؤں میں ملاحت ہے ترے اس حسن کی ہر گل و گلشن میں ہے رنگ اس تری گلزار کا چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سو سو حجاب ورنہ تھا قبلہ ترا رُخ کافر و دیندار کا ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا تا مگر درماں ہو کچھ اس ہجر کے آزار کا تیرے ملنے کے لئے ہم مل گئے ہیں خاک میں ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا جان گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا شور کیسا ہے تیرے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا سرمه چشم آریہ ۔ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۵۲) جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہو گیا آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا شکر اللہ مل گیا ہم کو وہ لعلِ بے بدل کیا ہوا گر قوم کا دل سنگ خارا ہو گیا (ازالہ اوہام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۹) حمد و ثنا اُسی کو جو ذات جاودانی ہم سر نہیں ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی باقی وہی ہمیشہ غیر اُس کے سب ہیں فانی غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی سب غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یار جانی دل میں مرے یہی ہے سُبْحَانَ مَنْ يَّرَانِي ہے پاک پاک قدرت عظمت ہے اس کی عظمت لرزاں ہیں اہل قربت کروبیوں پہ ہیبت ہے عام اس کی رحمت کیونکر ہو شکر نعمت ہم سب ہیں اُس کی صنعت اُس سے کرو محبت