حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 23
۲۳ ان بہتوں پر اکابر اولیاء سے فضیلت دی گئی ہے کہ جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں ۔ اور اس کے قدم پر چلنا موجب نجات و سعادت و برکت اور اس کے برخلاف چلنا موجب بعد وحرمان ہے۔ اشتہار منسلکہ آئینہ کمالات اسلام ۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۵۷) ایک مرتبہ الہام ہوا جس کے معنے یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں ۔ یعنی ارادہ الہی احیائے دین کے لئے جوش میں ہے لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پر شخص محیی کی تعیین ظاہر نہیں ہوئی اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔ اس اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک محیی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اُس نے کہا۔ هَذَا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ “ یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے۔ اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے سو وہ اس شخص میں متحقق ہے۔ براہین احمد یہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۹۸ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) یہ زمانہ جس میں ہم ہیں یہ وہی زمانہ ہے جس میں دشمنوں کی طرف سے ہر یک قسم کی بد زبانی کمال کو پہنچ گئی ہے اور بد گوئی اور عیب گیری اور افترا پردازی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب اس سے بڑھ کر ممکن نہیں اور ساتھ اس کے مسلمانوں کی اندرونی حالت بھی نہایت خطرناک ہو گئی ہے صد ہا بدعات اور انواع اقسام کے شرک اور الحاد اور انکار ظہور میں آ رہے ہیں۔ اس لئے قطعی یقینی طور پر اب یہ وہی زمانہ ہے جس میں پیشگوئی مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ کے مطابق عظیم الشان مصلح پیدا ہو ۔ سو الحمد للہ کہ وہ میں ہوں۔ تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۵۳ حاشیه ) میں ہر ایک مسلمان کی خدمت میں نصیحتنا کہتا ہوں کہ اسلام کے لئے جاگو کہ اسلام سخت فتنہ میں پڑا ہے۔ اس کی مدد کرو کہ اب یہ غریب ہے اور میں اسی لئے آیا ہوں اور مجھے خدا تعالیٰ نے علم قرآن بخشا ہے اور حقائق معارف اپنی کتاب کے میرے پر کھولے ہیں اور خوارق مجھے عطا کئے ہیں سو میری طرف آؤ تا اس نعمت سے تم بھی حصہ پاؤ۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں ۔ کیا ضرور نہ تھا کہ ایسی عظیم الفتن صدی کے سر پر جس کی کھلی کھلی آفات ہیں ایک مجد دکھلے کھلے دعوی کے ساتھ آتا ۔ سو عنقریب میرے کاموں کے ساتھ تم مجھے شناخت کرو گے ہر ایک جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا اس وقت کے علماء کی نا سمجھی اس کی سد راہ ہوئی۔ آخر