حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 300
بنائی گئی ہے۔ پس جو چیز خدا کی معرفت کے لئے بنائی گئی ہے اگر اس کو وسیلہ معرفت کامل کا جو الہام ہے عطا نہ ہو تو یہ کہنا پڑے گا کہ خدا نے اس کو اپنی معرفت کے لئے نہیں بنایا حالانکہ اس بات سے برہمو سماج والوں کو بھی انکار نہیں کہ انسان سلیم الفطرت کی روح خدا کی معرفت کی بھوکی اور پیاسی ہے۔ بس اب ان کو آپ ہی سمجھنا چاہئے کہ جس حالت میں انسان صحیح الفطرت خود فطرتا خدا کی معرفت کا طالب ہے اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ معرفت الہی کا ذریعہ کامل بجز الہام الہی اور کوئی دوسرا امر نہیں تو اس صورت میں اگر وہ معرفت کامل کا ذریعہ غیر ممکن الحصول بلکہ اس کا تلاش کرنا دور از ادب ہے تو خدا کی حکمت پر بڑا اعتراض ہو گا کہ اُس نے انسان کو اپنی معرفت کے لئے جوش تو دیا پر ذریعہ معرفت عطا نہ کیا گویا جس قدر بھوک تھی اُس قدر روٹی دینا نہ چاہا۔ اور جس قدر پیاس لگا دی اس قدر پانی دینا منظور نہ ہوا ۔ مگر دانشمند لوگ اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ ایسا خیال سراسر خدا کی عظیم الشان رحمتوں کی ناقدر شناسی ہے۔ جس حکیم مطلق نے انسان کی ساری سعادت اس میں رکھی ہے کہ وہ اِسی دنیا میں الوہیت کی شعاعوں کو کامل طور پر دیکھے تا اس زبردست کشش سے خدا کی طرف کھینچا جائے پھر ایسے کریم اور رحیم کی نسبت یہ گمان کرنا کہ وہ انسان کہ وہ انسان کو اپنی سعادت مطلوبہ اور اپنے مرتبہ فطرتیہ تک پہنچانا مرتبہ فطرتیہ تک پہنچانا نہیں چاہتا یہ حضرات برہمو کی عجب عقلمندی ہے۔ ( براہین احمد یہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۳۰ تا ۲۳۲ حاشیہ نمبر ۱۱) خدا نے انسانوں میں جس مطلب کا ارادہ کیا ہے پہلے سے اس مطلب کی تکمیل کے لئے تمام قوتیں خود پیدا کر رکھی ہیں مثلاً انسانی روحوں میں ایک قوت عشقی موجود ہے اور گو کوئی انسان اپنی غلطی سے دوسرے سے محبت کرے اور اپنے عشق کا محل کسی اور کو ٹھہرا وے لیکن عقل سلیم بڑی آسانی سے سمجھ سکتی ہے کہ یہ قوت عشقی اس لئے رُوح میں رکھی گئی ہے کہ تا وہ اپنے محبوب حقیقی سے جو اس کا خدا ہے اپنے سارے دل اور ساری طاقت اور سارے جوش سے پیار کرے۔ پس کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ قوت عشقی جو انسانی روح میں موجود ہے جس کی موجیں نا پیدا کنار ہیں اور جس کے کمال تموج کے وقت انسان اپنی جان سے بھی دستبردار ہونے کو طیار ہوتا ہے۔ یہ خود بخود روح میں قدیم سے ہے ہرگز نہیں۔ اگر خدا نے انسان اور اپنی ذات میں عاشقانہ رشتہ قائم کرنے کے لئے رُوح میں خود قوت عشقی پیدا کر کے یہ رشتہ آپ پیدا نہیں کیا تو گویا یہ امر اتفاقی ہے کہ پر میشر کی خوش قسمتی سے روحوں میں قوت عشقی پائی گئی اور اگر اس کے مخالف کوئی اتفاق ہوتا یعنی قوت عشقی روحوں میں نہ پائی جاتی تو کبھی