حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 276
۲۷۶ اور نظر کشفی میں کچھ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام ارواح واجسام کلمات اللہ ہی ہیں۔ جو بحکمت کا ملہ الہی پیرا یہ حدوث و مخلوقیت سے متلبس ہو گئے ہیں ۔ مگر اصل محکم جس پر قدم مارنا اور قائم رہنا ضروری ہے یہ ہے کہ ان کشفیات و معقولات سے قدر مشترک لیا جائے یعنی یہ کہ خدائے تعالیٰ ہر یک چیز کا خالق اور محدث ہے اور کوئی چیز کیا ارواح اور کیا اجسام بغیر اس کے ظہور پذیر نہیں ہوئے اور نہ ہو سکتی ہے کیونکہ کلام الہی کی عبارت اس جگہ در حقیقت زوالوجوہ ہے اور جس قدر قطع اور یقین کے طور پر قرآن شریف ہدایت کرتا ہے وہ یہی ہے کہ ہر یک چیز خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیر و وجود پذیر ہوئی ہے اور کوئی چیز بغیر اس کے پیدا نہیں ہوئی اور نہ خود بخود ہے۔ سو اس قدر اعتقاد ابتدائی حالت کے لئے کافی ہے۔ پھر آگے معرفت کے میدانوں میں سیر کرنا جس کو نصیب ہو گا اس پر بعد مجاہدات خود وہ کیفیت کھل جائے گی ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ! ۔ سرمه چشم آریہ ۔ روحانی خزائن جلد ۲ جلد ۲ صفحه ۱۷۳ تا ۱۷۵ حاشیه ) اس جگہ اس نکتہ کا بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ خدائے تعالیٰ جو علت العلل ہے جس کے وجود کے ساتھ تمام وجودوں کا سلسلہ وابستہ ہے جب وہ کبھی مربیانہ یا قاہرانہ طور پر کوئی جنبش اور حرکت ارادی کسی امر کے پیدا کرنے کے لئے کرتا ہے تو وہ حرکت اگر اتم اور اکمل طور پر ہو تو جمیع موجودات کی حرکت کو مستلزم ہوتی ہے اور اگر بعض شیون کے لحاظ سے یعنی جزئی حرکت ہو تو اُسی کے موافق عالم کے بعض اجزاء میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ خدائے عز و جل کے ساتھ اُس کی تمام مخلوقات اور جمیع عالموں کا جو علاقہ ہے وہ اُس علاقہ سے مشابہ ہے جو جسم کو جان سے ہوتا ہے اور جیسے جسم کے تمام اعضاء روح کے ارادوں کے تابع ہوتے ہیں اور جس طرف رُوح جھکتی ہے اُسی طرف وہ جھک جاتے ہیں۔ یہی نسبت خدائے تعالیٰ اور اس کی مخلوقات میں پائی جاتی ہے۔ اگر چہ میں صاحب فصوص کی طرح حضرت واجب الوجود کی نسبت یہ تو نہیں کہتا کہ خَلَقَ الأَشْيَاءَ وَ هُوَ عَيْنُهَا مگر یہ ضرور کہتا ہوں خَلَقَ الأَشْيَاءَ وَهُوَ كَعَيْنِهَا - هذَا الْعَالَمُ كَصَرُحٍ مُّمَرَّدٍ مِنْ قَوَارِيرَ وَمَا الطَّاقَةُ العُظمى يَجْرِي تَحْتَهَا وَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ يُخَيَّلُ فِي عُيُونٍ قَاصِرَةٍ كَأَنَّهَا هُوَ ۔ يَحْسَبُونَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُؤَكِّرَاتٍ بِذَاتِهَا وَلَا مُؤَكِّرَ إِلَّا هُوَ - حکیم مطلق نے میرے پر یہ راز سر بستہ میرے پر یہ راز سر بستہ کھول دیا ہے کہ یہ تمام عالم معہ اپنے جمیع ا جميع اجزاء کے اس ا العنكبوت : ٧٠