حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 259

۲۵۹ ہے جو مجمع کمالاتِ تامہ ہے۔ اسی وجہ سے قرآن شریف میں اللہ کے اسم کو جمیع صفات کاملہ کا موصوف ٹھہرایا ہے اور جا بجا فرمایا ہے کہ اللہ وہ ہے جو کہ رب العالمین ہے۔ رحمن ہے۔ رحیم ہے مد بر بالا رادہ ہے۔ حکیم ہے۔ عالم الغیب ہے۔ قادر مطلق ہے۔ ازلی ابدی ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ قرآن شریف کی ایک اصطلاح ٹھہر گئی ہے کہ اللہ ایک ذات جامع جمیع صفات کاملہ کا نام ہے۔ اسی جہت سے اس آیت کے سر پر بھی اللہ کا اسم لائے اور فرمایا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ - یعنی اس عالم بے ثبات کا قیوم ذات جامع الکمالات ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ عالم جس ترتیب محکم اور ترکیب ابلغ سے موجود اور مترتب ہے اس کے لئے یہ گمان کرنا باطل ہے کہ انہی چیزوں میں سے بعض چیزیں بعض کے لئے علت موجبہ ہو سکتی ہیں۔ بلکہ اس حکیمانہ کام کے لئے جو سراسر حکمت سے بھرا ہوا ہے ایک ایسے صانع کی ضرورت ہے جو اپنی ذات میں مدبر بالا رادہ اور حکیم اور علیم اور رحیم اور غیر فانی اور تمام صفات کاملہ سے متصف ہو۔ سو وہی اللہ ہے جس کو اپنی ذات میں کمال تام حاصل ہے۔ پھر بعد ثبوت وجود صانع عالم کے طالب حق کو اس بات کا سمجھانا ضروری تھا کہ وہ صانع ہر یک طور کی شرکت سے پاک ہے۔سواس کی طرف اشارہ فرمایا قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ الخ لے اس اقل عبارت کو جو بقدر ایک سطر بھی نہیں دیکھنا چاہئے کہ کس لطافت اور عمدگی سے ہر ایک قسم کی شراکت سے وجود حضرت باری کا مزہ ہونا بیان فرمایا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ شرکت از روئے حصر عقلی چار قسم پر ہے۔ کبھی شرکت عدد میں ہوتی ہے اور کبھی مرتبہ میں اور کبھی نسب میں اور کبھی فعل اور تاثیر میں ۔سواس سورۃ میں ان چاروں قسموں کی شرکت سے خدا کا پاک ہونا بیان فرمایا اور کھول کر بتلا دیا کہ وہ اپنے عدد میں ایک ہے دو یا تین نہیں اور وہ صمد ہے یعنی اپنے مرتبہ ء وجوب اور محتاج الیہ ہونے میں منفرد اور یگانہ ہے اور بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اور ہا لک الذات ہیں جو اس کی طرف ہر دم محتاج ہیں اور وہ کم یاد کے ہے یعنی اُس کا کوئی بیٹا نہیں تا بوجہ بیٹا ہونے کے اس کا شریک ٹھہر جائے اور وہ لَمْ يُولَدْ سے ہے یعنی اس کا کوئی باپ نہیں تا بوجہ باپ ہونے کے اس کا کوئی شریک بن جائے اور لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا کے ہے یعنی اس کے کاموں میں کوئی اس سے برابری کرنے والا نہیں تا باعتبار فعل کے اس کا کوئی شریک قرار پاوے۔ سو اس طور سے ظاہر فرما دیا کہ خدائے تعالیٰ چاروں قسم کی وہ شرکت سے پاک اور منزہ ہے اور وحدہ لاشریک ہے۔ پھر بعد اس کے اُس کے وحدہ لاشریک ہونے پر اتان الاخلاص : ۲ تا ۵