حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 257
۲۵۷ مالک الجزاء کا چہرہ مجوب اور مکتوم ہو رہا ہے اس لئے یہ خالص اور کامل اور منکشف طور پر یوم الجزاء نہیں ہو سکتا بلکہ خالص اور کامل اور منکشف طور پر یوم الدین یعنی یوم الجزاء وہ عالم ہوگا کہ جو اس عالم کے ختم ہونے کے بعد آوے گا۔ اور وہی عالم تجلّیاتِ عظمی کا مظہر اور جلال اور جمال کے پوری ظہور کی جگہ ہے۔ اور چونکہ یہ عالم دنیوی اپنی اصل وضع کی رُو سے دار الجزاء نہیں بلکہ دار الابتلاء ہے اس لئے جو کچھ عسر ویر و راحت و تکلیف اور غم اور خوشی اس عالم میں لوگوں پر وارد ہوتی ہے اُس کو خدائے تعالیٰ کے لطف یا قہر پر دلالت قطعی نہیں۔ مثلاً کسی کا دولت مند ہو جانا اس بات پر دلالت قطعی نہیں کرتا کہ خدائے تعالیٰ اس پر خوش ہے اور نہ کسی کا مفلس ! اور نادار ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ اُس پر ناراض ہے۔ بلکہ یہ دونوں طور کے ابتلاء ابتلاء ہیں تا دولتمند کو اس کی دولت میں اور مفلس کو اُس کی مفلسی میں جانچا جائے۔ یہ چار صداقتیں ہیں جن کا قرآن شریف میں مفصل بیان موجود ہے۔ (براہین احمد یہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد ا صفحه ۴۴۴ تا ۴۶۱ حاشیہ نمبر ۱۱ ) یہ بات بہ بداہت ثابت ہے کہ عالم کے اشیاء میں سے ہر یک موجود جو نظر آتا ہے اُس کا وجود اور قیام نظراً على ذاته ضروری نہیں مثلاً زمین کروی الشکل ہے اور قطر اس کا بعض کے گمان کے موافق تخمیناً چار ہزار کوس پختہ ہے مگر اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکتی کہ کیوں یہی شکل اور یہی مقدار اس کے لئے ضروری ہے اور کیوں جائز نہیں کہ اس سے زیادہ یا اس سے کم ہو یا برخلاف شکل حاصل کے کسی اور شکل سے متشکل ۔ ہو اور جب اس پر کوئی و پر کوئی دلیل قائم نہ ہوئی تو یہ شکل اور مقدار جس کے مجموعہ کا نام وجود ہے زمین کے لئے ضروری نہ ہوا اور علیٰ ہذا القیاس عالم کی تمام اشیاء کا وجود اور قیام غیر ضروری ٹھہرا۔ اور صرف یہی بات نہیں کہ وجود هر یک ممکن کا نظرًا عَلى ذَاتِه غیر ضروری ہے بلکہ بعض صورتیں ایسی نظر آتی ہیں کہ اکثر چیزوں کے معدوم ہونے کے اسباب بھی قائم ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ چیزیں معدوم نہیں ہوتیں ۔ مثلاً با وجود اس کے کہ سخت سخت قحط اور وباء پڑتی ہیں مگر پھر بھی ابتدا زمانہ سے تخم ہر یک چیز کا بچتا چلا آیا ہے حالانکہ عند العقل جائز بلکہ واجب تھا کہ ہزار ہا شدائد اور حوادث میں سے جو ابتدا سے دنیا پر نازل ہوتی رہی کبھی کسی دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ شدّت قحط کے وقت غلہ جو کہ خوراک انسان کی ہے بالکل مفقود ہو جاتا یا کوئی قسم غلہ کی مفقود ہو جاتی یا کبھی شدت وباء کے وقت نوع انسان کا نام ونشان باقی نہ رہتا یا کوئی اور انواع حیوانات میں سے مفقود ہو جاتے یا کبھی اتفاقی طور پر سورج یا چاند کی گل بگڑ جاتی یا دوسری بے شمار چیزوں سے جو عالم کی درستی نظام کے لئے ضروری ہیں کسی چیز کے وجود میں خلل راہ