حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 252
۲۵۲ بلکہ اس کے ظہور اور بروز کے لئے اول شرط یہ ہے کہ یہ عالم اسباب کہ جو ایک تنگ و تاریک جگہ ہے بکلی معدوم اور منہدم ہو جائے اور قدرت کاملہ حضرت احدیت کے بغیر آمیزش اسباب معتادہ کے برہنہ طور پر اپنا کامل چمکا را دکھلاوے۔ کیونکہ اس آخری فیضان میں کہ جو تمام فیوض کا خاتمہ ہے جو کچھ پہلے فیضانوں کی نسبت عند العقل زیادتی اور کمالیت متصور ہو سکتی ہے وہ یہی ہے کہ یہ فیضان نہایت منکشف اور صاف طور پر ہو اور کوئی اشتباہ اور خفا اور نقص باقی نہ رہے۔ یعنی نہ مفیض کے بالا رادہ فیضان میں کوئی شبہ رہ جائے اور نہ فیضان کے حقیقی فیضان اور رحمت خالصہ اور کاملہ ہونے میں کچھ جائے کلام ہو بلکہ جس مالک قدیم کی طرف سے فیض ہوا ہے اس کی فیاضی اور جزا دہی روز روشن کی طرح کھل جائے ۔ اور شخص فیضیاب کو بطور حق الیقین یہ امر مشہود اور محسوس ہو کہ حقیقت میں وہ مالک الملک ہی اپنے ارادہ اور توجہ اور قدرت خاص سے ایک نعمت عظمیٰ اور لذتِ بُری اُس کو عطا کر رہا ہے اور حقیقت میں اس کو اپنے اعمال صالحہ کی ایک کامل اور دائمی جزا کہ جو نہایت اصفی اور نہایت اعلیٰ اور نہایت مرغوب اور نہایت محبوب ہے مل رہی ہے ۔ کسی قسم کا امتحان اور ابتلاء نہیں ہے اور ایسے فیضان اکمل اور اتم اور ابقی اور اعلیٰ اور اجلی سے متمتع ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ بندہ اس عالم ناقص اور مکدر اور کثیف اور تنگ اور منقبض اور نا پائیدار اور مشتبہ الحال سے دوسرے عالم کی طرف انتقال کرے۔ کیونکہ یہ فیضان تجلیات عظمی کا مظہر ہے جن میں شرط شرط ہے کہ محسن حقیقی کا جمال بطور عریاں اور بمرتبہ حق الیقین مشہود ہو اور کوئی مرتبہ شہود اور ظہور اور یقین کا باقی نہ رہ جائے اور کوئی پردہ اسباب معتادہ کا درمیان نہ ہو۔ اور ہر یک دقیقہ معرفت تامہ کا مُلَمَّن قُوَّ من قوت سے۔ حيز فعل میں آ جائے اور نیز فیضان بھی ایسا منکشف اور معلوم الحقیقت ہو کہ اس نسبت ہو کہ اُس کی آپ خدا نے یہ ظاہر کر دیا ہو کہ وہ ہر یک امتحان اور ابتلاء ابتلاء کی کدورت سے پاک ہے اور نیز اس فیضان میں وہ اعلیٰ اور اکمل درجہ کی لذتیں ہوں جن کی پاک اور کامل کیفیت انسان کے دل اور روح اور ظاہر اور باطن اور جسم اور جان اور ہر یک روحانی اور بدنی قوت پر ایسا اکمل اور ابقی احاطہ رکھتی ہو کہ جس پر پر عقلاً اور خیالاً اور وہماً زیادت متصور نہ ہو۔ ۔ اور اور یہ یہ عالم عا کہ جو ناقص الحقیقت اور مکدر الصورت اور ہالکۃ الذات اور مشتبہ الکیفیت اور ضیق الظرف ہے ان تجلیات عظمی اور انوار اصفی اور عطیات دائمی کی برداشت نہیں کر سکتا اور وہ اشعه تامه كامله دَائِمه اس میں سما نہیں سکتے ۔ بلکہ اس کے ظہور کے لئے ایک دوسرا عالم درکار ہے جو اسباب معتادہ کی ظلمت سے بکلی پاک اور منزہ اور ذات واحد قہار کی اقتدار کامل اور خالص کا مظہر ہے ۔ ہاں اس فیضانِ اخص سے ان کامل انسانوں کو اسی زندگی میں کچھ حظ