حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 222

۲۲۲ نظر آ رہا ہے۔ اسلام نے کوئی نیا خدا پیش نہیں کیا بلکہ وہی خدا پیش کیا ہے جو انسان کا نور قلب اور انسان کا کانشنس اور زمین و آسمان پیش کر رہا ہے اور دوسری علامت سچے مذہب کی یہ ہے کہ مردہ مذہب نہ ہو۔ بلکہ جن برکتوں اور عظمتوں کی ابتدا میں اس میں تخم ریزی کی گئی تھی وہ تمام برکتیں اور عظمتیں نوع انسان کی بھلائی کے لئے اس میں اخیر دنیا تک موجود رہیں تا موجودہ نشان گذشتہ نشانوں کے لئے مصدق ہو کر اس سچائی کے نور کو قصہ کے رنگ میں نہ ہونے دیں۔ سوئیں ایک مدت دراز سے لکھ رہا ہوں کہ جس نبوت کا ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی کیا تھا اور جو دلائل آسمانی نشانوں کے آنجناب نے پیش کئے تھے وہ اب تک موجود ہیں اور پیروی کرنے والوں کو ملتے ہیں تا وہ معرفت کے مقام تک پہنچ جائیں ۔ اور زندہ خدا کو براہ راست دیکھ لیں ۔ مگر جن نشانوں کو یسوع کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اُن کا دنیا میں نام ونشان نہیں صرف قصے ہیں ۔ لہذا یہ مردہ پرستی کا مذہب اپنے مردہ معبود کی طرح مردہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک سچائی کا بیان صرف قصوں تک کفایت نہیں کر سکتا ۔ کون سی قوم دنیا میں ہے جن کے پاس کر اماتوں اور معجزوں کے قصے نہیں۔ پس یہ اسلام ہی کا خاصہ ہے کہ وہ صرف قصوں کی ناقص اور نا تمام تسلّی کو پیش نہیں کرتا بلکہ وہ ڈھونڈ نے والوں کو زندہ نشانوں سے اطمینان بخشتا ہے اور اس شخص کو جو حق کا طالب ہو اس کو چاہئے کہ صرف بیہودہ مردہ پرستی پر کفایت نہ کرے بلکہ نہایت ضروری ہے کہ محض ذلیل قصّوں پر سرنگوں نہ ہو۔ ہم دنیا کے بازار میں اچھی چیزوں کے خریدنے کے لئے آئے ہیں۔ ہمیں نہیں چاہئے کہ کوئی مغشوش چیز خرید کر نقد ایمان ضائع کریں ۔ زندہ مذہب وہ ہے جس کے ذریعہ سے زندہ خدا ملے۔ زندہ خدا وہ ہے جو ہمیں بلا واسطہ ملھم کر سکے اور کم سے کم یہ کہ ہم بلا واسطہ ملھم کو دیکھ سکیں ۔ سومیں تمام دنیا کو خوشخبری دیتا ہوں کہ یہ زندہ خدا اسلام کا ۔ اسلام کا خدا ہے۔ وہ مر دے ہیں نہ خدا جن سے اب کوئی ہمکلام نہیں ہو سکتا ۔ اُس کے نشان نہیں دیکھ سکتا۔ سو جس کا خدا مردہ ہے وہ اُس کو ہر میدان میں شرمندہ کرتا ہے اور ہر میدان میں اُسے ذلیل کرتا ہے اور کہیں اس کی مدد نہیں کر سکتا ۔ اس اشتہار کے دینے سے اصل غرض یہی ہے کہ جس مذہب میں سچائی ہے وہ کبھی اپنا رنگ نہیں بدل سکتی ۔ جیسے اوّل ہے ویسے ہی آخر ہے۔ سچا مذہب کبھی خشک قصہ نہیں بن سکتا ۔ سو اسلام سچا ہے۔ میں ہر ایک کو کیا عیسائی کیا آریہ اور کیا یہودی اور کیا برہمو اس سچائی کے دکھلانے کے لئے بلاتا ہوں ۔ کیا کوئی ہے جو زندہ خدا کا طالب ہے ہم مردوں کی پرستش نہیں کرتے۔ ہمارا زندہ خدا ہے۔ وہ ہماری مدد کرتا ہے۔ وہ اپنے الہام اور کلام اور آسمانی نشانوں سے ہمیں مدد دیتا ہے۔ اگر دنیا کے اس سرے سے اس سرے تک کوئی عیسائی