حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 200
۲۰۰ اور شوق اور ذوق اور محبت اور تقبل اور تقویٰ کی ہوتی ہے وہ اس سے کھوئی جاتی ہے۔ اور وہ خود محسوس کرتا ہے کہ ایام موجودہ سے دس سال پہلے جو کچھ اس کو رقت اور انشراح اور بسط اور خدا کی طرف جھکنے اور دنیا اور اہل دنیا سے بیزاری کی حالت دل میں موجود تھی اور جس طرح سچے زہد کی چمک کبھی کبھی اس کو آگاہ کرتی تھی کہ وہ خدا کے عباد صالحین میں سے ہو سکتا ہے اب وہ چمک بکلی اس کے اندر سے جاتی رہی ہے اور دنیا طلبی کی ایک آگ اس کے اندر بھڑک اُٹھتی ہے۔ اور انکار اہل اللہ کی شامت سے اس کو یہ بھی خیال نہیں آتا کہ جس زمانہ میں اُس کے خیال نیک اور پاک اور زاہدانہ تھے اب اس زمانہ کی نسبت اس کی عمر بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ غرض اُس کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ مجھ کو کیا ہو گیا اور دنیا طلبی میں گرا جاتا اور دنیا کا جاہ ڈھونڈتا ہے حالانکہ موت کے قریب ہوتا ہے۔ غرض اسی طرح ایمان کا نور اس کے دل سے چھین لیتے ہیں اور اولیاء اللہ کی عداوت سے دوسرا سبب سلب ایمان کا یہ بھی ہو جاتا ہے کہ وہ اس ولی اللہ کی ہر حالت میں مخالفت کرتا رہتا ہے جو سر چشمہ نبوت سے پانی پیتا ہے جس کو سچائی پر قائم کیا ۔ جاتا ہے۔ سو چونکہ اس کی عادت ہو جاتی ہے کہ خواہ نخواہ ہر ایک ایسی سچائی کورڈ کرتا ہے جو اس ولی کے منہ سے نکلتی ہے اور جس قدر اس کی تائید میں نشان ظاہر ہوتے ہیں ۔ یہ خیال کر لیتا ہے کہ ایسا ہونا جھوٹوں سے ممکن ہے اس لئے رفتہ رفتہ سلسلہ نبوت بھی اُس پر مشتبہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا انجام کار اس مخالفت کے پردہ میں اس کی ایمانی عمارت کی اینٹیں گرنی شروع ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ کسی دن کسی ایسے عظیم الشان مسئلہ کی مخالفت یا نشان کا انکار کر بیٹھتا ہے جس سے ایمان جاتا رہتا ہے۔ ہاں اگر کسی کا کوئی سابق نیک عمل ہو جو حضرت احدیت میں محفوظ ہو تو ممکن ہے کہ آخر کارعنایت از لی اس کو تھام لے اور وہ رات کو یا دن کو یک دفعہ اپنی حالت کا مطالعہ کرے یا بعض ایسے امور اس کی آنکھ روشن کرنے کے لئے پیدا ہو جا ئیں جن سے یک دفعہ وہ خواب غفلت سے جاگ اٹھے ۔ وَ ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ابتدا سے ( تریاق القلوب ۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۳۲ تا ۴۳۵ حاشیه ) ہو میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال و نہیں سکتا۔ ہاں ضال اور جادہ صواب سے منحرف ضرور ہو گا اور میں اس کا نام بے ایمان نہیں رکھتا۔ ہاں میں ایسے سب لوگوں کو خال اور جادہ صدق وصواب سے دُور سمجھتا ہوں جو ان سچائیوں سے انکار کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے میرے پر کھولی ہیں ۔ میں بلاشبہ ایسے ہر ایک آدمی کو ضلالت کی آلودگی سے مبتلا سمجھتا