حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 182
۱۸۲ ہستی پر آ جائے اور در حقیقت وہ پاک دل اور پاک ارادہ ہو جائے اور پلیدی اور حرامکاری کا تمام چولہ اپنے بدن پر سے پھینک دے ۔ اور نوع انسان کا ہمدرد اور خدا کا سچا تابعدار ہو جائے اور اپنی تمام خود روی کو الوداع کہہ کر میرے پیچھے ہولے۔ میں اُس شخص کو اس کتے سے مشابہت دیتا ہوں جو ایسی جگہ سے الگ نہیں ہوتا جہاں مردار پھینکا جاتا ہے اور جہاں سڑے گلے مردوں کی لاشیں ہوتی ہیں۔ کیا میں اس بات کا محتاج ہوں کہ وہ لوگ زبان سے میرے ساتھ ہوں اور اس طرح پر دیکھنے کے لئے ایک جماعت ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تمام لوگ مجھے چھوڑ دیں اور ایک بھی میرے ساتھ نہ رہے تو میرا خدا میرے لئے ایک اور قوم پیدا کرے گا جو صدق اور وفا میں اُن سے بہتر ہو گی ۔ یہ آسمانی کشش کام کر رہی ہے جو نیک دل لوگ میری طرف دوڑتے ہیں ۔ کوئی نہیں جو آسمانی کشش کو روک سکے۔ بعض لوگ خدا سے زیادہ اپنے مکر اور فریب پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ شاید ان کے دلوں میں یہ بات پوشیدہ ہو کہ نبوتیں اور رسالتیں سب انسانی مکر ہیں اور اتفاقی طور پر شہرتیں اور قبولتیں ہو جاتی ہیں ۔ اس خیال سے کوئی خیال پلید تر نہیں اور ایسے انسان کو اُس خدا پر ایمان نہیں جس کے ارادہ کے بغیر ایک پتا بھی گر نہیں سکتا۔ لعنتی ہیں ایسے دل اور ملعون ہیں ایسی طبیعتیں ۔ خدا ان کو ذلت سے مارے گا کیونکہ وہ خدا کے کارخانہ کے دشمن ہیں ۔ ایسے لوگ در حقیقت دہریہ اور خبیث باطن ہوتے ہیں۔ وہ جہنمی زندگی کے دن گزارتے ہیں اور مرنے کے بعد بجز جہنم کی آگ کے اُن کے حصہ میں کچھ نہیں۔ تبلیغ رسالت جلد دهم صفحه ۶۱ ۶۲ - مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۶۱۹ ، ۶۲۰ بار دوم ) میں خود جو اس راہ کا پورا تجربہ کار ہوں اور محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور فیض سے میں نے اس راحت اور لذت سے حظ اٹھایا ہے یہی آرزو رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کے لئے اگر مر کے پھر زندہ ہوں اور پھر مروں اور زندہ ہوں تو ہر بار میرا شوق ایک لذت کے ساتھ بڑھتا ہی جاوے۔ پس میں چونکہ خود تجربہ کار ہوں اور تجربہ کر چکا ہوں اور اس وقف کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ جوش عطا فرمایا ہے کہ اگر مجھے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ اس وقف میں کوئی ثواب اور فائدہ نہیں ہے بلکہ تکلیف اور دُکھ ہو گا تب بھی میں اسلام کی خدمت سے رک نہیں سکتا ۔ اس لئے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اپنی جماعت کو وصیت کروں اور یہ بات پہونچا دوں، آئندہ ہر ایک کا اختیار ہے کہ وہ اسے سُنے یا نہ سُنے کہ اگر کوئی نجات چاہتا ہے اور حیات طیبہ یا ابدی زندگی کا طلبگار ہے تو وہ اللہ کے لئے اپنی زندگی وقف کرے اور ہر ایک اس کوشش اور فکر میں لگ جاوے کہ وہ اس درجہ اور مرتبہ کو حاصل کرے کہ کہہ سکے کہ میری