حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 162

۱۶۲ حالت انقطاع پیدا ہو جائے جس سے سفر آخرت مکروہ معلوم نہ ہو لیکن اس غرض کے حصول کے لئے صحبت میں رہنا اور ایک حصہ اپنی عمر کا اس راہ میں خرچ کرنا ضروری ہے تا اگر خدائے تعالیٰ چاہے تو کسی برہانِ یقینی کے مشاہدہ سے کمزوری اور ضعف اور کسل دور ہو اور یقین کامل پیدا ہو کر ذوق اور شوق اور ولولہ عشق پیدا ہو جائے سو اس بات کے لئے ہمیشہ فکر رکھنا چاہئے اور دعا کرنا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ یہ توفیق بخشے اور جب تک یہ توفیق حاصل نہ ہو کبھی کبھی ضرور ملنا چاہئے کیونکہ سلسلہ بیعت میں داخل ہو کر پھر ملاقات کی پروا نہ رکھنا ایسی بیعت سراسر بے برکت اور صرف ایک رسم کے طور پر ہوگی ۔ ( اطلاع منسلکہ آسمانی فیصلہ ۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۵۱) قلب انسانی بھی حجر اسود کی طرح ہے اور اس کا سینہ بیت اللہ سے مشابہت رکھتا ہے ماسوی اللہ کے خیالات وہ بت ہیں جو اس کعبہ میں رکھے گئے ہیں ۔ مکہ معظمہ کے بتوں کا قلع قمع اُس وقت ہوا تھا جبکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار قدوسیوں کی جماعت کے ساتھ وہاں جا پڑے تھے اور مکہ فتح ہو گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔ پس ماسوی اللہ کے بتوں کی شکست اور استیصال کے لئے ضروری ہے کہ ان پر اسی طرح سے چڑھائی کی جائے۔ غرض اس خانہ خدا کو بتوں سے پاک وصاف کرنے کے لئے ایک جہاد کی ضرورت ہے اور اس جہاد کی راہ میں تمہیں بتاتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں اگر تم اس پر عمل کرو گے تو ان بتوں کو توڑ ڈالو گے۔ اور یہ راہ میں اپنی خود تراشیدہ نہیں بتاتا بلکہ خدا نے مجھے مامور کیا ہے کہ میں بتاؤں ۔ اور وہ راہ کیا ہے؟ میری پیروی کرو اور میرے پیچھے چلے آؤ۔ یہ آواز نئی آواز نہیں ہے۔ ملہ کو بتوں سے پاک کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کہا تھا قُلْ إِنْ كُنْتُمْ سے لئے علیہ وسلم نے یہی تھا تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله اس طرح پر اگر تم میری پیروی کرو گے تو اپنے اندر کے بتوں کو توڑ ڈالنے کے قابل ہو جاؤ گے ۔ اور اس طرح پر سینہ کو جو طرح طرح کے بتوں سے بھرا پڑا ہے پاک کرنے کے لائق ہو جاؤ گے۔ تزکیہ نفس کے لئے چلہ کشیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے چلہ کشیاں نہیں کی تھیں ۔ اڑہ اور نفی واثبات وغیرہ کے ذکر نہیں کئے تھے بلکہ اُن کے پاس ایک اور ہی چیز تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں محو تھے۔ جو نور آپ میں تھا وہ اُس اطاعت کی نالی میں سے ہو کر صحابہؓ کے قلب پر گرتا پر گرتا تھا اور ماسوی اللہ کے خیالات کو پاش پاش کرتا جاتا تھا۔ تاریکی کے بجائے اُن سینوں میں نور بھرا جاتا تھا۔ اس وقت بھی خوب یا د رکھو وہی حالت ل ال عمران : ۳۲