حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 147

۱۴۷ مَوْلَانَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ نِعْمَ الْمَوْلَى وَ نِعْمَ النَّصِيرِ - خاکسار غلام احمد لودھیانه ۴۰۰۰۰ / مارچ ۱۸۸۹ء (ازالہ اوہام ۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۰ ۵ تا ۵۶۳ ) ، عزیزان بے خلوص و صدق نکشایند را ہے را مصفا قطره باید که تا گوهر شود پیدا L اے میرے دوستو ! جو میرےسلسلہ بیعت میں داخل ہو خدا ہمیں اور تمہیں ان باتوں کی توفیق دے جن سے وہ راضی ہو جائے ۔ آج تم تھوڑے ہوا اور تحقیر کی نظر سے دیکھے گئے ہو اور ایک ابتلاء کا وقت تم پر ہے۔ اسی سنت اللہ کے موافق جو قدیم سے جاری ہے ہر ایک طرف سے کوشش ہو گی کہ تم ٹھوکر کھاؤ اور تم ہوگی ہر طرح سے ستائے جاؤ گے اور طرح طرح کی باتیں تمہیں سننی پڑیں گی۔ اور ہر یک جو تمہیں زبان یا ہاتھ سے دُکھ دے گا وہ خیال کرے گا کہ اسلام کی حمایت کر رہا ہے اور کچھ آسمانی ابتلاء بھی تم پر آئیں گے تا تم ہر طرح سے آزمائے جاؤ سوتم اس وقت سُن رکھو کہ تمہارے فتح مند اور غالب ہو جانے کی یہ راہ نہیں کہ تم اپنی خشک منطق سے کام لو یا تمسخر کے مقابل پر تمسخر کی باتیں کرویا گالی کے مقابل پر گالی دو۔ کیونکہ اگر تم نے یہی راہیں اختیار کیں تو تمہارے دل سخت ہو جائیں گے اور تم میں صرف باتیں ہی باتیں ہوں گی جن سے خدا تعالیٰ نفرت کرتا ہے اور کراہت کی نظر سے دیکھتا ہے سو تم ایسا نہ کرو کہ اپنے پر دو لعنتیں جمع کر لو ایک خلقت کی اور دوسری خدا کی بھی ۔ یقیناً یا د رکھو کہ لوگوں کی لعنت اگر خدائے تعالیٰ کی لعنت ساتھ نہ ہو کچھ بھی چیز نہیں اگر خدا ہمیں نابود نہ کرنا چاہے تو ہم کسی سے نابود نہیں ہو سکتے۔ لیکن اگر وہی ہمارا دشمن ہو جائے تو کوئی ہمیں پناہ نہیں دے سکتا ۔ ہم کیونکر خدائے تعالیٰ کو راضی کریں اور کیونکر وہ ہمارے ساتھ ہو اس کا اُس نے مجھے بار بار یہی جواب دیا کہ تقوی سے ۔ سواے میرے پیارے بھائیو! کوشش کرو تا متقی بن جاؤ بغیر عمل کے سب باتیں پیچ ہیں اور بغیر اخلاص کے کوئی عمل مقبول نہیں۔ سو تقویٰ یہی ہے کہ ان تمام نقصانوں سے بیچ کر خدا تعالیٰ کی طرف قدم اٹھاؤ اور پرہیز گاری کی باریک راہوں کی رعایت رکھو۔ سب سے اول اپنے دلوں میں انکسار اور صفائی اور اخلاص پیدا کرو اور سچ مچ دلوں کے حلیم اور سلیم اور غریب بن جاؤ کہ ہر یک خیر اور شر کا بیچ پہلے دل میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ اگر تیرا دل شر سے خالی ہے تو تیری زبان بھی شر سے خالی ہوگی اور ایسا ہی لے اے عزیز و بغیر اخلاص اور سچائی کے کوئی راہ نہیں کھل سکتی ۔ مصفا قطرہ چاہیے تا کہ موتی پیدا ہو۔