حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 142
۱۴۲ ہے جو میری بات پر ایمان لاوے اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرے۔ تبلیغ رسالت جلد دهم صفحہ ۱۰۶، ۱۰۷۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۶ ۶۵ ، ۶۵۷ بار دوم ) خدا ہے میں آپ کو اطلاع دیتا ہوں اور بشارت پہنچاتا ہوں کہ ا ہوں کہ اس نا خدا نے جو آسمان اور زمین کا خدا زمین کے طوفان زدوں کی فریاد سُن لی اور جیسا کہ اُس نے اپنی پاک کلام میں طوفان کے وقت اپنے جہاز کو بچانے کا وعدہ کیا ہوا تھا وہ وعدہ پورا کیا۔ اور اپنے ایک بندہ کو یعنی اس عاجز کو جو بول رہا ہے اپنی طرف سے مامور کر کے وہ تدبیریں سمجھا دیں جو طوفان پر غالب آویں اور مال و متاع کے صندوقوں کو دریا میں پھینکنے کی حاجت نہ پڑے۔ اب قریب ہے جو آسمان سے یہ آواز آوے کہ قِيلَ يَأَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَسَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِي ، مگر ابھی تو طوفان زور میں ہے۔ اسی طوفان کے وقت خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو مامور کیا اور فرمایا۔ وَاصْعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا یعنی تو ہمارے حکم سے اور ہماری آنکھوں کے سامنے کشتی تیار کر اُس کشتی کو اس طوفان سے کچھ خطرہ نہ ہوگا ۔ اور خدائے تعالیٰ کا ہاتھ اس پر ہو گا۔ سو وہ خالص اسلام کی کشتی یہی ہے جس پر سوار ہونے کے لئے میں لوگوں کو بلاتا ہوں ۔ اگر آپ جاگتے ہو تو اُٹھو اور اس کشتی میں جلد سوار ہو جاؤ کہ طوفان زمین پر سخت جوش کر رہا ہے اور ہر یک جان خطرہ میں ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام - روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۶۲٬۲۶۱ حاشیه ) تبلیغ میں اس جگہ ایک اور پیغام بھی خلق اللہ کو عموماً اور اپنے بھائی مسلمانوں کو خصوصا پہنچاتا ہوں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اور سچی ایمانی پاکیزگی اور محبت مولی کا راہ سیکھنے کے لئے اور گندی زیست اور کاہلانہ اور غدارانہ زندگی کے چھوڑنے کے لئے مجھ سے بیعت کریں۔ پس جو لوگ اپنے نفسوں میں کسی قدر یہ طاقت پاتے ہیں انہیں لازم ہے کہ میری طرف آئیں کہ میں ان کا غم خوار ہوں گا اور ان کا بار ہلکا کرنے کے لئے کوشش کروں گا اور خدا تعالیٰ میری دعا اور میری توجہ میں اُن کے لئے برکت دے گا بشرط ا بشرطیکہ وہ ربّانی شرائط پر چلنے کے لئے بدل و جان طیار ہوں گے۔ یہ ربانی حکم ہے جو آج میں نے پہنچا دیا ہے۔ اس بارہ میں عربی الہام یہ ہے۔ إِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ هود : ۴۵ سے جب تو پختہ ارادہ کرلے تو تو کل علی اللہ سے کام لے۔