حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 128
۱۲۸ کی حالت میں رمضان میں جمع کیا اور مخالفین سے کشتی کی طرح مقابلہ کرا کے آخر ہر ایک میدان میں اعجازی طور پر مجھے فتح دی اور دوسرے بہت سے نشان دکھلائے جن کی تفصیل رسالہ سراج منیر اور دوسرے رسالوں میں درج ہے۔ لیکن باوجود نصوص قرآنیہ و حدیثیہ و شواہد عقلیہ و آیات سماویہ پھر بھی ظالم طبع مخالف ا۔ اپنے ظلم سے باز نہ آئے اور طرح طرح کے افتراؤں اؤں سے مدد لے کے لے کر محض ظلم کے رو سے تکذیب کر رہے ہیں۔ لہذا اب مجھے اتمام حجت کے لئے ایک اور تجویز خیال میں آئی ہے اور امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے اور یہ تفرقہ جس نے ہزارہا مسلمانوں میں سخت عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے۔ روباصلاح ہو جائے ۔ اور وہ یہ ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کے تمام مشائخ اور فقراء اور صلحاء اور مردان با صفا کی خدمت میں اللہ جل شانه کی قسم دے کر التجا کی جائے کہ وہ میرے بارے میں اور میرے دعوی بارے میں دُعا اور تضرع اور استخارہ سے جناب الہی میں توجہ کریں ۔ پھر اگر اُن کے الہامات اور کشوف اور رویا صادقہ سے جو حلفاً شائع کریں کثرت اس طرف نکلے کہ گویا یہ عاجز کذاب اور مفتری ہے تو بے شک تمام لوگ مجھے مردود اور مخذول اور ملعون اور مفتری اور کذاب خیال کر لیں اور جس قدر چاہیں لعنتیں بھیجیں اُن کو کچھ بھی گناہ نہیں ہوگا اور اس صورت میں ہر ایک ایماندار کو لازم ہو گا کہ مجھ سے پر ہیز کرے اور اس تجویز سے بہت آسانی کے ساتھ مجھ پر اور میری جماعت پر وبال آجائے گا لیکن اگر کشوف اور الہامات اور رویا ء صادقہ کی کثرت اس طرف ہو کہ یہ عاجز من جانب اللہ اور اپنے دعوئی میں سچا ہے تو پھر ہر ایک خدا ترس پر لازم ہوگا کہ میری پیروی کرے اور تکفیر اور تکذیب سے باز آوے۔ ظاہر ہے کہ ہر ایک شخص کو آخر ایک دن مرنا ہے پس اگر حق کے قبول کرنے کے لئے اس دنیا میں کوئی ذلت بھی پیش آئے تو وہ آخرت کی ذلت سے بہتر ہے لہذا میں تمام مشائخ اور فقراء اور صلحاء پنجاب اور ہندوستان کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں جس کے نام پر گردن رکھ دینا سچے دینداروں کا کام ہے کہ وہ میرے بارے میں جناب الہی میں کم سے کم اکیس روز توجہ کریں یعنی اس صورت میں کہ اکیس روز سے پہلے کچھ معلوم نہ ہو سکے اور خدا سے انکشاف اس حقیقت کا چاہیں کہ میں کون ہوں؟ آیا کذاب ہوں یا من جانب اللہ ۔ میں بار بار بزرگانِ دین کی خدمت میں اللہ جل شانہ کی قسم دے کر یہ سوال کرتا ہوں کہ ضرور اکیس روز تک اگر اس سے پہلے معلوم نہ ہو سکے اس تفرقہ کے دُور کرنے کے لئے دُعا اور توجہ کریں ۔ میں یقیناً جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی قسم