مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 567 of 632

مسیحی انفاس — Page 567

۵۶۷ کر دیا ہے کہ محمد صاحب کا نام ہماری انجیل برنباس میں لکھا ہوا تو ضرور ہے مگر خیال کیا جاتا ہے کہ کسی مسلمان نے لکھ دیا ہو گا۔ چنانچہ پادری ٹھاکر نے بھی اپنی اظہار عیسوی کے صفحہ ۳۳۲ میں کسی قدر عبارت انجیل برنباس کی جس میں نام آن حضرت صلی اللہ یعنی محمد رسول اللہ ایک پیش گوئی حضرت مسیح میں لکھا ہوا ہے نقل کر کے آخر میں یہی ناکارہ اور فضول عذر پیش کر دیا ہے کہ یہ یا تو کسی عیسائی کا اور یا کسی مسلمان کا جعل ہے لیکن اب تک عیسائی لوگ مسلمانوں کے ان سوالات کے مدیون ہیں کہ وہ جعل کسی مسلمان نے کیا اور کب کیا اور کس کس کے روبرو کیا۔ اور کیوں وہ جعلی کتابیں پوپوں کے متبرک کتب خانوں میں الہامی کتابوں کے ساتھ بعثرت تمام تر رکھی گئیں اور کیوں بڑے بڑے راہب اور فاضل پادری ان کتابوں کو پڑھ کر اور فی الحقیقت سچ سمجھ کر دین اسلام قبول کرتے رہے۔ اگر در خانه کس است حرفے بس است حضرت مسیح کی پیش ایک بڑی پیش گوئی حضرت مسیح علیہ السّلام کی جو انجیل متی باب ۲۱ میں لکھی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالیت تامہ اور مظہر نام الوہیت ہونے میں ان کوئی (۲) لوگوں کے لئے بڑا قوی ثبوت ہے جو ذرہ آنکھیں کھول کر اس پیش گوئی کو پڑھیں کیونکہ اس پیش گوئی میں جو آیت ۳۳ سے شروع ہوتی ہے ان تینوں قسموں کے قرب کی خوب ہی تصریح کی گئی ہے جن کا ثابت کرنا اس حاشیہ کا اصلی مدعا ہے۔ سو حضرت مسیح علیہ السّلام نے ان نبیوں کو جو شریعت موسوی کی حمایت کے لئے ان انجیل برنباس کا حوالہ دیتے ہیں۔ تب میں اس بات کا شائق ہوا که انجیل برنباس کو میں بھی دیکھوں۔ اور اتفاقا تقریب یہ نکل آئی کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم نے پوپ پنجم کا مجھ سے اتحاد و دوستانہ کرادیا ۔ ایک روز جب کہ پوپ موصوف کے کتب خانہ میں ہم دونوں اکٹھے تھے اور پوپ صاحب سو گئے تھے میں نے دل بہلانے کو ان کی کتابوں کا ملاحظہ کرنا شروع کیا سو سب سے پہلے جس کتاب پر میرا ہاتھ پڑا وہ وہی انجیل بر نباس تھی جس کا میں متلاشی تھا۔ اس کے مل جانے سے مجھے نہایت درجہ کی خوشی پہنچی اور میں نے یہ نہ چاہا کہ ایسی نعمت کو آستین کے نیچے چھپارکھوں ۔ تب میں پوپ صاحب کے جاگنے پر ان سے رخصت ہو کر وہ آسمانی خزانہ اپنے ساتھ لے گیا جس کے پڑھنے