مسیحی انفاس — Page 555
۵۵۵ خاندان سے گئی کو سب طاقتیں ہیں ۔ نیچری جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کا باپ تھا وہ بڑی غلطی پر اب شریعت تمہارے ہیں۔ ایسے لوگوں کا خدا مردہ خدا ہے اور ایسے لوگوں کی دعا قبول نہیں ہوتی جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کو بے باپ پیدا نہیں کر سکتا ۔ ہم ایسے آدمی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو یہ سلام سے خارج سمجھ دکھانا چاہتا تھا کہ تمہاری حالتیں ایسی رڈی ہو گئی ہیں کہ اب تم میں کوئی اس قابل نہیں جو نبی ہو سکے یا اس کی اولاد میں سے کوئی نبی ہو سکے ۔ اسی واسطے آخری خلیفہ موسوی کو اللہ تعالیٰ نے ۔ بے باپ پیدا کیا اور ان کو سمجھایا کہ اب شریعت تمہارے خاندان سے گئی۔ الحکم ۔ جلد ۵ - نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۱ ١٢٠٢ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ مسیح بن باپ پید ہوئے اور قرآن شریف سے یہی ثابت ہے ۔ اصل بن باپ پیدائش ، یود بات یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السّلام یہود یہود کے واسطے ایک نشان تھے جو ان کی شامت کے واسطے ایک نشان اعمال سے اس رنگ میں پورا ہو ا ز بور اور دوسری کتابوں میں لکھا گیا تھا کہ اگر تم نے اپنی عادت کو نہ بگاڑا تو نبوت تم میں رہے گی مگر خدا تعالیٰ کے علم میں تھا کہ یہ اپنی حالت کو بدل لیں گے اور شرک و بدعت میں گرفتار ہو جائیں گے ۔ جب انہوں و نے اپنی حالت کو بگاڑا تو پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق یہ تنبیہی نشان ان کو دیا اور صبح کو بن باپ پیدا کیا۔ اور بن باپ پیدا ہونے کا ستر یہ تھا کہ چونکہ سلسلہ نسب کا باپ کی طرف سے ہوتا ہے تو اس طرح گویا سلسلہ منقطع ہو گیا اور اسرائیلی خاندان کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی۔ کیونکہ وہ پورے طور سے اسرائیل کے خاندان سے نہ رہے۔ مُبَشِّرًا بِرَسُولِ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ میں بشارت ہے اس کے دو ہی پہلو ہیں ۔ یعنی ایک تو آپ کا وجود ہی بشارت تھا کیونکہ بنی اسرائیل سے نبوت کا خاتمہ ہو گیا ۔ دوسرے زبان سے بھی بشارت دی یعنی آپ کی پیدائش میں بھی بشارت تھی اور زبانی بھی انجیل میں بھی مسیح نے باغ کی تمثیل میں بھی اس امر کو بیان کر دیا ہے اور اپنے آپ کو مالک باغ کے بیٹے کی جگہ ٹھہرایا ہے۔ بیٹے کا محاورہ انجیل اور بائبل میں عام ہے ۔ اسرائیل کی نسبت آیا ہے کہ