مسیحی انفاس — Page 553
۵۵۳ ۳۹۷ ہم مسیح کو بن باپ پیدا ہوا مانتے ہیں اور ہماری کتابوں ، رسالوں اور اخبار کی بہت سی تحریروں میں لکھا جا چکا ہے۔ اور ہم اس بات کو کیا کریں کہ یہ تاریخی غلطی میں لکھا جا اور ہم اس کو کہ مسیح بن باپ تھا مسلمانوں میں پیدا ہوئی ہے۔ جو صبح تاریخ سے عالمیت ہے کہ مریم کا یوسف کے ساتھ نکاح ہو گیا تھا اور پھر اس سے اولاد بھی ہوئی تھی۔ ہم نے تو اس اولاد کا ذکر کیا ہو گیا تھا اور پھر اس سے اولاد ہے۔ اور اسی قسم کی غلطی واقعہ صلیب کے متعلق ہے ۔ مسیح کو صلیب دئے جانے کے درد ناک قصے موجود ہیں ۔ اور ان علماء کے نزدیک وہ چھت پھاڑ کر اُڑ گئے ۔ اب اس میں کس کا قصور ہے ۔ یہ تو ان کو بالکل خدا بنانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بشریت ان کے پاس نہ آجاوے۔ اور ایسا ہی مریم کو ساری عمر بتول ٹھہرانا کہ انہوں نے نکاح نہیں کیا۔ بڑی غلطی ایسای مریم کو ساری میں کہ ہے ۔ ان تاریخی امور سے ہم انکار نہیں کر سکتے۔ مسیح کی نسبت ہمارا یہی مذہب ہے کہ وہ بن۔ ہ وہ بن باپ پیدا ہوئے۔ ملفوظات جلد ۳ صفحه ۳۷۷، ۳۷۸ ۱۳۹۸ کی یحی اور عیسی علیہ السلام کے قصہ کو ایک جا جمع کرنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جیسے یحیٰ علیہ السلام کی پیدائش خوارق طریق سے ہے ویسے ہی مسیح کی بھی ہے بھی اور میسی جسے کبھی علیہ سے ہے ویسے ہی مسیح پھر یحی علیہ السلام کی پیدائش کا حال بیان کر کے مسیح کی پیدائش کا حال بیان کیا پیدائش کا قصہ ایک کا ہے۔ یہ ترتیب قرآنی بتلائی بتلائی ہے کہ ادئی حالت کی طرف سے اعلی اعلیٰ اعلیٰ حالت کی طرف علمیہ بیان حکمت ترقی کی ہے۔ یعنی جس قدر معجز نمائی کی قوت بھٹی کی پیدائش میں ہے اس سے بڑھ کر مسیح کی پیدائش میں ہے۔ اگر اس میں کوئی معجزانہ بات نہ تھی تو یحیٰ کی پیدائش کا ذکر کر کے کیوں ساتھ ہی مریم کا ذکر چھیڑ دیا اس سے کیا فائدہ تھا۔ یہ اس لئے کہ تاویل کے ساتھ ہی کا چھیڑ سے کیا فائدہ تھا۔ یہ لئے کہ بیان کرنے میں