مسیحی انفاس — Page 536
اس اشتہار کے جواب میں جو کچھ بعض پادری صاحبوں نے لکھا ہے وہ ا انے لکھا ہے وہ اخبار عام ۲۳ فروری ۱۸۹۷ء میں بحوالہ کر چین ایڈووکیٹ چھپ گیا ہے۔ چنانچہ مجیب صاحب نے اول انجیل کی عبارت لکھ کر اس بات پر زور دیا ہے کہ جھوٹے رسول اور جھوٹے مسیح بھی دیا ایسے بڑے نشان دکھلا سکتے ہیں کہ اگر ممکن ہو تو بر گزیدوں کو بھی گمراہ کریں۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ عبارت انجیل جو صاحب راقم نے پیش کی ہے ان کے مدعا کو کچھ فائدہ بخش نہیں بلکہ اس سے وہ خود زیر الزام آتے ہیں کیونکہ جس حالت میں اسی قسم کے نشانوں پر بھروسہ کر کے یسوع کو خدا بنا دیا گیا ہے تو یہ بڑا ظلم ہو گا کہ دوسر اظلم ہو گا کہ دوسرا شخص ایسے ہی نشان بلکہ بقول یسوع بڑے بڑے نشان بھی دکھلا کر ایک سچا ملہم بھی نہ ٹھر سکے۔ یہ منطق تو ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ یسوع کی ذات کے لئے وہ نشان ایسے سمجھے جائیں جس سے اس کی الوہیت بپایہ ثبوت پہنچ جائے اور اسکے خدا ہونے میں کچھ بھی کسر نہ رہے۔ پھر جب وہی نشان بلکہ بقول یسوع ان سے بھی کچھ بڑھ چڑھ کر کسی دوسرے مدعی الہام سے صادر ہوں تو اس بے چارے چارے کا کا ملہم ہونا بھی ان سے ثابت نہ ہو سکے یہ کسی قسم کا اصول اور قاعدہ ہے ؟ کیا کوئی سمجھ سکتا ہے ؟ پھر مسیحیوں کو اس پر بھی اصرار ہے کہ یسوع کے نشان اقتداری نشان ہیں۔ تبھی تو وہ خدا ہے ! بہت خوب! لیکن ذرا شہر کر سوچو کہ اگر جھوٹے نبی سے نشان ظاہر ہوں تو وہ نشانوں اور فوق العادة خوارق سے قوت ثبوت اور کثرت تعداد میں بڑھے ہوئے ثابت کر سکیں تو میں ان کو ایک ہزار روپیہ بطور انعام دوں گا۔ میں سچ سچ اور حلفاً کہتا ہوں کہ اس میں تخلف نہیں ہو گا۔ میں ایسے ثالث کے پاس یہ روپیہ جمع کر اسکتا ہوں جس پر فریقین کو اطمینان ہو۔ اس فیصلہ کے لئے غیر مذاہب والے منصف ٹھیرائے جائیں گے۔ درخواستیں جلد آنی چاہئیں۔ الراقم عیسائی صاحبوں کا دلی خیر خواہ میرزاغلام احمد قادیانی تعداد اشاعت ۵۲۰۰ مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھپا ۲۸ جنوری ۱۸۹۷ء یه اشتہار ۱۸ × ۲۲ کے نصف صفحہ پر ہے مجموعه اشتہارات جلد ۲ صفحه ۱۷ ۵۳۶