مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 534 of 632

مسیحی انفاس — Page 534

کے ذریعہ سے پیدا ہو سکتی ہے ایک جھوٹی جھلک کی طرح ان میں نمودار ہو جاتی تھی پس اگر تنی ہی بات ہے تو ہم اس کو پہلے سے تسلیم کر چکے ہیں ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ عمل الترب کے ذریعہ سے پھونک کی ہوا میں وہ قوت پیدا ہو جائے جو اس دخان میں پیدا ہوتی ذریعہ پیدا ہے جس کی تحریک سے غبارہ اوپر کو چڑھتا ہے۔ صانع فطرت نے اس مخلوقات میں بہت کچھ خواص مخفی رکھے ہوئے ہیں۔ ایک شریک صفات باری ہونا ممکن نہیں اور کونسی صنعت ہے جو غیر ممکن ہے ؟ اور اگر یہ اعتقاد رکھا جائے کہ ان پرندوں میں واقعی اور حقیقی حیات پیدا ہو جاتی تھی اور سچ مچ ان میں ہڈیاں گوشت پوست خون وغیرہ اعضاء بن کر جان پڑ جاتی تھی تو اس صورت میں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ان میں جاندار ہونے کے تمام لوازم پیدا ہو جاتے ہوں گے اور وہ کھانے کے بھی لائق ہوتے ہوں گے اور ان کی نسل بھی آج تک کروڑہا پرندے زمین پر موجود ہوں گے اور کسی بیماری سے یا شکاری کے ہاتھ سے مرتے ہوں تھے تو ایسا اعتقاد بلا شبہ شرک ہے۔ بہت لوگ اس وسوسہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اگر کسی نبی کے دعا کرنے کوئی مردہ زندہ ہو جائے یا کوئی جماد جاندار بن جائے تو اس میں کون سا شرک ہے ایسے لوگوں کو جاننا چاہئے کہ اس جگہ دعا کا کچھ ذکر نہیں اور دعا کا قبول کرنا یا نہ کرنا اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہوتا ہے اور دعا پر جو فعل مترتب ہوتا ہے وہ فعل الہی ہوتا ہے نبی کا اس میں کچھ دخل نہیں ہوتا اور نبی خواہ دعا کرنے کے بعد فوت ہو جائے نبی کے موجود ہونے یا نہ ہونے کی اس میں کچھ حاجت نہیں ہوتی۔ غرض نبی کی طرف سے صرف دعا ہوتی ہے جو کبھی قبول اور کبھی رو بھی ہو جاتی ہے لیکن اس جگہ وہ وہ صورت نہیں۔ اناجیل اربعہ کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح جو جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا تھا وہ دعا کے ذریعہ ہر گز نہیں تھے اور قرآن شریف میں بھی کسی جگہ یہ ذکر نہیں کہ مسیح بیماروں کے چنگا کرنے یا پرندوں کے بنانے کے وقت دعا کرتا تھا بلکہ وہ اپنی روح کے ذریعہ سے جس کو روح القدس کے فیضان سے بر اسے برکت بخشی گئی تھی ایسے ! ایسے ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا چنانچہ جس نے کبھی اپنی عمر میں غور سے انجیل پڑھی ہو گی وہ ہمارے اس بیان کی یہ یقین تمام تصدیق کرے گا اور قرآن شریف کی آیات بھی باآواز بلند ہی پکار رہی ہیں کہ مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اس کو طاقت بخشی گئی تھی اور خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہر یک فرد بشر کی فطرت میں موقع ہے مسیح سے اس کی * ۵۳۴