مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 532 of 632

مسیحی انفاس — Page 532

الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا وَاتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيَوَةً وَلَا نُشُورًا یعنی خداوہ خدا ہے جو تمام زمین و آسمان کا اکیلا مالک ہے کوئی اس کا حصہ دار نہیں اس کا کوئی بیٹا نہیں اور اور نہ اس کے ملک میں کوئی اس کا شریک اور اسی نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور پھر ایک حد تک اس کے جسم اور اس کی طاقتوں اور اس کی عمر کو محدود کر دیا اور مشرکوں نے بجز اس خدائے حقیقی کے اور اور ایسے ایسے خدا مقرر کر رکھے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ آپ پیدا شدہ اور مخلوق ہیں اور اپنے ضر اور نفع کے ملک نہیں ہیں اور نہ موت اور زندگی اور جی اٹھنے کے مالک ہیں۔ اب دیکھو خدائے تعالیٰ صاف صاف طور پر فرمارہا ہے کہ بجز میرے کوئی اور خالق نہیں بلکہ ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے کہ تمام ر فرمارہاہے کہ میرے کوئی میں فرماتا جہان مل کر ایک لکھی بھی پیدا نہیں کر سکتا۔ اور صاف فرماتا ہے کہ کوئی شخص موت اور حیات اور ضرر اور نفع کا مالک نہیں ہو سکتا۔ اس جگہ ظاہر ہے کہ اگر کسی مخلوق کو موت اور ہے حیات کا مالک بنا دینا اور اپنی صفات میں شریک کر دینا اس کی عادت میں داخل ہوتا تو وہ بطور دا استثناء ایسے لوگوں کو ضرور باہر رکھ لیتا اور ایسی علی توحید کی ہمیں ہر گز تعلیم نہ دیتا۔ اگر یہ وسواس دل میں گذرے کہ پھر اللہ جل شانہ نے مسیح ابن مریم کی نسبت اس قصہ میں جہاں پرندہ بنانے کا ذکر ہے تخلق کا لفظ کیوں استعمال کیا جس کے بظاہر یہ معنے ہیں کہ تو پیدا کرتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ حضرت عیسیٰ کو خالق قرار دینا بطور استعادہ ہے جیسا کہ اس دوسری آیت میں فرمایا ہے فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ - بلا شبہ حقیقی اور سچا خالق خدا تعالی ہے اور جو لوگ مٹی یا لکڑی کے کھلونے بناتے ہیں وہ بھی خالق ہیں مگر جھوٹے خالق ۔ جن کے فعل کی اصلیت کچھ بھی نہیں۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ کیوں بطور معجزہ جائز نہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام اذن اور ۵۳۲